پاک ایران معاشی تعلقات کا فروغ دینا ہوگا

زاہدان، ارنا- پاکستانی شہر کوئٹہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصلر نے دونوں ملکوں کے درمیانہ دوستانہ اور ثقافتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ باہمی معاشی تعلقات دونوں ملکوں کے درمیان موجود صلاحتیوں سے مطابقت نہیں رکھتے اور اس میں مزید اضافہ کرنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار "حسن درویش وند" نے آج بروز ہفتے کو پاکستان سے ملحقہ صوبے سیستان و بلوچستان میں نان ائل مصنوعات کی برآمدات کی توسیع سے متعلق منعقدہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 200 ملین سے زائد آبادی والے پاکستان میں ایران کیساتھ معاشی تبادلے کی وسیع صلاحیت موجود ہے جو بدقسمتی سے اس کی طرف توجہ نہیں دی جارہی ہے۔

درویش وند نے کہا کہ پاکستان سے معاشی اور تجارتی تعلقات کا فروغ دونوں ملکوں کے علاوہ سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کے مفادات میں ہوگا۔

انہوں نے پاکستانی صوبے بلوچستان اور ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان میں رہنے والے سنی برادری پر تبصرہ کرتے ہوئے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

درویش وند نے ایران اور پاکستان کے درمیان معاشی تعلقات کے فروغ سے متعلق بے پناہ صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کو بروئے کار لانے پر زور دیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے ثقافتی قونصلر نے ایران اور پاکستان کی معیشت کو ایک دوسرے کی مکمل قرار دے دیا۔

انہوں نے ہیلتھ ٹورازم اور سیاحتی صنعت کو ایران کی صلاحیتوں میں سے قرار دیتے ہوئے جس پر خاصی توجہ نہیں دی گئی ہے۔

اس موقع پر صوبے سیستان و بلوچستان کی ڈپٹی گورنر جنرل "ماندانا زنگنہ" نے ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی لین دین کو انتہائی اہم اور ضروری قرار دے دیا۔

انہوں نے ایران کیخلاف امریکی معاشی جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں مشترکہ سرحدوں میں تجارت کا فروغ انتہائی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

زنگنہ نے پاکستان سے ملحقہ اس صوبے کے 9 شہروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے کی منڈیوں اور سرکاری سرحدوں پر توجہ دینے اور استعمال کرنے سے تجارت اور معیشت کے میدان میں اہم کردار ادا ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے گزشتہ سال کے دوران پاکستان کو 530 ملین ڈالر کی مالیت پر مشتمل مصنوعات کی برآمدات کی ہے جو بہت کم ہے۔

زنگنہ نے کہا کہ توقع کی جاتی ہے آئندہ سال میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات کا حجم 5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا اورموجودہ صلاحیتوں کے پیش نظر اسے 16 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان بھی ہے۔

انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ میں ریلوے کی صلاحیتوں کے استعمال کو ایک اور اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ زاہدان - میرجاوہ ریلوے روٹ کو معیاری بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور پاکستان کو اس حوالے سے کردار ادا کرنے کی ضروت ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 8 =