ایران اور افغانستان کا جامع تعاون معاہدے کی جلدی سے حتمی شکل دینے سے اتفاق

تہران، ارنا- نائب ایرانی وزیر برائے سیاسی امور نے کہا ہے کہ ایران اور افغانستان جامع تعاون معاہدے کو آئندہ تین مہینوں کے دوران حتمی شکل دینے سے اتفاق کیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار افغانستان کے دورے پر آئے ہوئے "سید عباس عراقچی" نے آج بروز جمعرات کو "افغانستان اور ایران کے تعلقات پر تناظر: مواقع اور چیلنجز" کے عنوان کے تحت منعقدہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایران اور افغانستان کے مابین اسٹریٹجک دستاویز پر دستخط صرف دو دستاویزات پر دستخط نہیں ہیں بلکہ یہ انتہائی اہم اقدام ہے کیونکہ افغانستان ایک خاص صورتحال میں ہے اور امن عمل کا آغاز ہوچکا ہے اور اس صورتحال میں باہمی تعاون کے دستاویز پر دستخط کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، افغانستان اور افغان حکومت کی قیادت میں امن عمل کی بھر پور حمایت کرے گا۔

عراقچی نے دونوں ملکوں کے درمیان پانی کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پانی کو ایک ایسا مسئلہ بنانا چاہئے جس سے دونوں فریق فائدہ اٹھاسکیں اور پانی کا مسئلہ تنازعات کی بجائے تعاون کا معاملہ بن جائے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین مشترکہ روزگار کی پیداوار ہونی چاہیے تا کہ دونوں ان کے ثمرات سے مستفید ہوجائیں۔

عراقچی نے جامع مشترکہ تعاون کے معاہدے میں دونوں ملکوں کے درمیان تمام شعبوں بشمول دفاعی، سیکیورٹی، معاشی، ثقافتی اور پناہ گزینوں کے امور میں تعاون پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس جامع تعاون معاہدے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی تقویت ہے اور اس معاہدے کے فریم ورک کے تحت پانچ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں؛ پہلی کمیٹی واٹر کمیٹی ہے جو تیار کی گئی ہے اور دفاعی سلامتی کمیٹی اور اقتصادی کمیٹی ابھی زیر غور ہے۔

 نایب ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جب ہم نے اس معاہدے پر بات چیت کا آغاز کیا توقع کی جاتی تھی کہ ہم 6 ماہ سے ایک سال کے اندر کسی نتیجے پر پہنچ پائیں گے لیکن اس میں 4 سے 5 سال کا عرصہ لگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بات چیت دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا تاکہ مختصر وقت میں - زیادہ سے زیادہ تین ماہ میں –جامع تعاون معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکیں۔

عراقچی نے کہا کہ ابھی معاشی اور سیکورٹی شعبوں میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کردیا کہ دفاعی سلامتی دستاویز جو جامع دستاویز کا ایک حصہ ہے، میں  دونوں ممالک کے درمیان تعلقات دو دوستانہ اور اتحادی ممالک کے طور پر مرکوز کیے جائیں گے جو پرامن تعلقات چاہتے ہیں اور دونوں ممالک کے مابین امن کا معاملہ مستقل مسئلہ بن جائے گا۔

عراقچی نے کہا کہ دفاعی تحفظ کی دستاویز میں متعدد اصولوں پر غور کیا گیا ہے پہلا اصول عدم مداخلت ہے؛ ممالک کو دوسرے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے اور یہ ایک طے شدہ اصول ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا اصول عدم جارحیت ہے یعنی کسی بھی ملک کو کسی بھی صورت میں ایک دوسرے پر جارحیت نہیں کرنا چاہئے اور وہ اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

نائب ایرانی زویر خارجہ نے علاقائی امن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یقینا افغانستان میں قیام امن و استحکام، ایران میں قیام امن اور استحکام کے برابر ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 10 =