یمن پر اتحادی کے جابرانہ محاصرے کا تسلسل ناقابل قبول ہے: ظریف

تہران، ارنا – ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اتحادی جماعت کے ذریعے یمن پر ظالمانہ جارحیت اور محاصرہ جاری رکھنا اور کورونا کی وبا کی ایسی صورتحال میں خوراک اور ایندھن لے جانے والے جہازوں پر قبضہ کرنا ناقابل قبول ہے۔

یہ بات محمد جواد ظریف نے آج بروز منگلیمن کی نیشنل سالویشن گورنمنٹ کے وزیر خارجہ ہشام شرف عبداللہ کے ساتھ  ایک ویڈیو کال میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ سے ہی یمن کے بحران کے واحد حل کو سیاسی سمجھا ہے اور اس سلسلے میں یمنی امن منصوبے کے لئے یمنی اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعمیری تعاون کیا ہے۔

ظریف نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا خیال ہے کہ یمن کے استحکام اور قیام کا واحد راستہ اپنی علاقائی سالمیت ، یمنی گروہوں کے درمیان اتحاد کو برقرار رکھنا اور متحد اور جامع حکومت تشکیل دینے کے لئے مختلف گروہوں اور جماعتوں کے مابین جامع سیاسی بات چیت کرنا ہے کیونکہ یمن کا تعلق تمام یمنی گروہوں سے ہے۔

ظریف نے اتحادیوں کی طرف سے یمن پر جارحیت اور محاصرے کو جاری رکھنا اور کورونا وائرس کی وبا کے دوران خوراک اور ایندھن کے بحری جہازوں کے قبضے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کرونا کی روک تھام کے لیے موجودہ پابندیوں کے باوجود ہم ماضی کی طرح یمن کے امن مذاکرات کو محاصرے کو ختم کرنے کیلیے یمن کے امن مذاکرات ، جنگ بندی کے قیام اور سیاسی مذاکرات کا آغاز کے مقصد کے فروغ کی ہر ممکن  کوشش کر رہا ہے۔

اس گفتگو کے دوران یمنی قومی نجات حکومت کے وزیر خارجہ نےاسلامی جمہوریہ ایران کی سیاسی حمایت اور یمنی عوام کے لئے انسانی امداد بھیجنے کی تعریف کرتے ہوئے یمن کی تازہ ترین سیاسی صورتحال اور یمنی بحران کے مستقبل سے متعلق ایک رپورٹ کی وضاحت کی۔

انہوں نے امن کے حصول اور کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے انسانی مسائل پر قابو پانے کے لئے اس ملک کی کوششوں پر زور دیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 1 =