ایران یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کے مذاکرات کے نتائج کا انتظار کر رہا ہے: عراقچی

تہران، ارنا-  نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" کے خط کا یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کا حوالہ کیا گیا ہے اور اب ایران، ان کے جوہری معاہدے کے دیگر اراکین سے مذاکرات اور باہمی مشاورت کے نتائج کا انتظار کر رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار "سید عباس عراقچی" نے پیر کے روز ظریف کیجانب سے جوہری معاہدے میں اختلافات کے حل کے میکنزم کے فعال ہونے سے متعلق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ "جوسپ بورل" کے نام میں لکھے گئے خط پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ظریف کا خط بورل کا حوالہ کیا گیا ہے اور اب وہ جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے کواردینیٹر کی حیثیت سے اس معاہدے کے دیگر اراکین سے اس خط سے متعلق اجلاس کے انعقاد کے حوالے سے مذاکرات کر رہے ہیں۔

نائب ایرانی وزیر خارجہ نے اس اجلاس کی تاریخ سے متعلق کہا کہ ایران اب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ اور جوہری معاہدے کے دیگر اراکین سے مذاکرات اور باہمی مشاورت کے نتائج کا انتظار کر رہا ہے۔

عراقچی نے کہا کہ اگر جوہری معاہدے کے اراکین میں سے ایک بھی اپنے وعدوں پر عمل نہ کرے یا کہ وعدوں کیخلاف ورزی کرے تو دیگر فریقین کو اختلافات کے حل کے میکنزم کے مطابق اس کیخلاف مقدمہ چلنے کا حق ہے۔

انہوں نے تین یورپی یونین کے حالیہ اقدامات کو ان کے جوہری وعدوں کیخلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس مسلئے کو مشترکہ کمیشن میں اٹھایا گیا ہے اور اس کمیشن میں اس سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران ابھی اطلاع دینے کے مرحلے میں ہے اور اختلافات کے حل کے میکنزم کا بھی فعال کیا گیا ہے تا کہ مشترکہ کمیشن بھی تین یورپی ممالک کیجانب سے جوہری وعدوں کیخلاف ورزی سے متعلق آگاہی حاصل ہو۔

واضح رہے کہ ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے 3 جون کو یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ "چوسب بورل" کے نام میں ایک خط میں کہا گیا ہے کہ تین یورپی ممالک نے جوہری معاہدے کی شق نمبر 36 کے مطابق اپنے جوہری وعدوں کیخلاف ورزی کی ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 4 =