13 جولائی، 2020 11:05 AM
Journalist ID: 2392
News Code: 83853735
0 Persons
جوہری معاہدہ کثیرالجہتی امید کی اساس ہے: سابق برطانوی سفیر

لندن، ارنا – اسلامی جمہوریہ ایران میں سابق برطانوی سفیر نے جوہری معاہدے سے امریکہ کی غیر قانونی واپسی کے نتیجے میں گذشتہ پانچ سالوں میں معاہدے کی ممکنہ صلاحیت کے صرف ایک چھوٹے سے حصے کے استحصال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری معاہدہ اب بھی ایک اہم دستاویز اور کثیرالجہتی ادراک کے لئے امید کی اساس ہے۔

یہ بات "ریچرڈ ڈالٹون" نے پیر کے روز جوہری معاہدے کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ خلیج فارس کے عوام کے لئے مستقبل کے پرامن تعاون کو یقینی بنانے کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران سمیت مشرق وسطی کے خطے سے پیدا ہونے والی کثیر الجہتی سفارتی ، سلامتی اور معاشی تعاملات سب سے بہترین طریقہ ہے۔
ڈالٹون نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ غیر منصفانہ اور یکطرفہ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی عوام کی تکالیف کا خاتمہ ہوئے اور یوروپی ممالک کو اپنی مالی اور تجارتی ذمہ داریوں کو نبھانا ہوگا۔
برطانوی سفارتکار نے اس امید کا اظہار کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران جوہری معاہدے کے وعدوں پر واپس آئے اور ایک بار پھر عالمی جوہری ادارے ایران کی سو فیصد دیانتداری کی تصدیق کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ 2021 میں ہم ایسی پیشرفت دیکھیں گے جو امریکی حکومت کے تباہ کن انداز کو ختم جائے گا وہی نقطہ نظر جس نے دوسری حکومتوں کی بری پالیسیوں کے ساتھ ہی امریکہ کو مشرق وسطی میں عدم استحکام اور قوموں کے مصائب کا سب سے بڑا حامی بنایا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2018 کے مئی میں ایک طرفہ اور غیرقانونی طور پر عالمی جوہری معاہدے سے علیحدہ ہوگیا اور انہوں نے ایران مخالف پابندیوں کی تجدید کی۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 9 =