12 جولائی، 2020 11:23 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 83853373
0 Persons
صہیونی ریاست کو بالکل تسلیم نہیں کیا گیا ہے: اسلامی مفکرین

اسلام آباد، ارنا- عالم اسلام کے متعدد مفکرین، اسکالرز، سیاست دانوں اور مذہبی رہنماؤں نے فلسطینی مسئلے کی اہمیت کو کم کرنے کے حوالے سے سامراجی طاقتوں کی سازش پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے مسلم اقوام کی بیداری کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ غاصب صہیونی کا تسلیم ناممکن ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج بروز اتوار کو پاکستانی شہر کراچی میں فلسطین کی حمایت فاونڈیشن کے زیر اہتمام میں "فلسطین اور کشمیرسے یکجہتی" کے عنوان کے تحت ایک وبینار کا انعقاد کیا گیا جس میں اسلامی جمہوریہ ایران، پاکستان، ملائشیاء، لبنان، ترکی اور انڈونیشیا کے اسکالرز نے حصہ لیا۔

اس ورچوئل اجلاس میں شریک پاکستانی سینٹ کے بعض اراکین اور سیاسی اور مذہبی رہنماوں نے مقبوضہ فلسطین کے بعض علاقوں کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کے منصوبے پر مقابلہ کرنے اور صہیونی اور امریکی جیسی سامراجی طاقتوں کی سازشوں پر روشنی ڈالنے پر زوردیا۔

اس اجلاس میں شریک ایران اسکالرز "سید محمد مرندی" اور "فواد ایزدی" نے بھی اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے خطے میں اسلامی سرزمین کو تقسیم کرنے کے ایک مذموم منصوبہ نافذ کیا ہے اور وہ اس طرح اسلامی فرقوں، قومیتوں اور نسلوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین، عالم اسلام اور تمام مسلمانوں کا بنیادی مسئلہ ہے اوراس مسئلہ اور مسئلہ کشمیر سمیت مسلم عوام کو درپیش دیگر مسائل کو حل کرنے کیلئے مسلمانوں کے درمیان یکجہتی اور اتحاد کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر ایران میں قائم فلسطین کی اسلامی تحریک حماس "خالد قدومی" نے کہا کہ امریکہ سات دہایئوں سے زائد ہے کہ صہیونی ریاست کی پشت پناہی کر رہا ہے اور ان کی سارشوں سے اب فلسطینی عوام اپنے ہی گھر سے محروم ہوگئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صیہونی ریاست نہ صرف عربوں یا غیر عربوں، سنیوں یا شیعوں کی دشمن ہے بلکہ وہ انسانیت کے بھی دشمن ہے اور اس غاصب اور دہشت گرد ریاست کیخلاف فلسطینی عوام خصوصا حماس کی مزاحمت اور جنگ جاری رہے گی۔

پاکستان سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر "مشاہد حسین سید" نے بھی امت مسلمہ کیلئے فلسطینی اور کشیمری عوام کے مستقبل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان ہرگز صہیونی ریاست کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور ہمیں پوری ہوشیاری سے فلسطینی مسئلے کو بھولنے کی کوششوں کو ہٹانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ  فلسطینی مسئلے کا فوری اور منصفانہ حل نہ صرف مشرق وسطی کے مفاد میں ہے، بلکہ فلسطین کی آزادی بھی عالمی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے میں معاون ہے۔

سینئر پاکستانی سیاستدان نے عالم اسلام کے اتحاد کو مضبوط بنانے اور فلسطینی عوام کی حمایت میں تعمیری موقف اپنانے اور صہیونی ریاست کے جارحانہ اقدامات کو مسترد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس کے علاوہ لبنانی پارلیمنٹ میں تعینات حزب اللہ کے نمائندہ "ابراہیم موسوی" نے بھی کہا کہ حزب اللہ فلسطینی عوام اور بیت المقدس کی آزادی اور صیہونی قابض فوجیوں کی بے دخلی کیلئے مزاحمتی گروپوں کیساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین اور کشمیر کے تنازعات کا حل انسانیت کے لئے اہم ہے اور مسلمانوں کو یکجہتی اور اتحاد کے ذریعے اپنے بہن بھائیوں کو درپیش مشکلات کے خاتمے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔

پاکستان میں قائم فلسطین کی حمایت فاونڈیشن کے سیکرٹری جنرل "صابر ابو مریم"، ترکی کے سیاسی اور مذہبی شخصیات، پاکستان کے سیاسی شخصیات اور اس اجلاس میں شریک دیگر اراکین نے بھی فلسطینی ارمانوں کے دفاع اور مزاحمتی فرنٹ کی حمایت پر زوردیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 5 =