صدر روحانی کی حکومت کی پاکستان کیساتھ مشترکہ سرحدوں میں پائیدار امن کی مضبوطی کیلئے حکمت عملی

اسلام آباد، ارنا – ایرانی 11 ویں اور 12ویں حکومت نے پڑوسیوں کے ساتھ باہمی تعلقات اور روابط کی اہمیت کی مبنی پر پاکستان کے ساتھ مشترکہ سرحدوں میں پائیدار امن قائم کرنا اس حکومتوں کے ایجنڈے میں شامل تھا جو حالیہ برسوں میں ، اس کے شاندار نتائج برآمد ہوئے ہیں ان میں سے اہمسایہ ملک کو سرحدوں کے درمیان پائیدار امن اور دوستی برقرار رکھنے کے لئے مشترکہ سرحدی پٹی کی "ناکہ بندی اور باڑ لگانے کے منصوبے" پر عملدرآمد کرنے کا پابند کرنا ہے۔

ایرانی مشرقی سرحدوں میں سلامتی کی اعلی اہمیت ہمیشہ سے ہی سفارتکاروں، حکومت کے اعلی عہدیداروں اور مسلح افواج کے ایجنڈے میں رہی ہے اور اس نکتے کو پاکستانی حکام کے ساتھ بروقت مشاورت ، سرحدی سلامتی سے متعلق تعاون کے معاہدوں کے نفاذ پر سنجیدہ پیروی اور ملک کے اعلی سیاسی اور فوجی عہدیداروں کے پاکستان کے دوروں میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

ان دورے جو ایران کی سرحدی حفاظت کو یقینی بنانے کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں

مشترکہ سرحدوں پر امن و سلامتی برقرار رکھنے اور دونوں ممالک کے مختلف شعبوں کی مستقل مشاورت کے لئے تہران اور اسلام آباد کے درمیان قریبی تعاون کے باوجود حالیہ برسوں میں غیرعلاقائی اور دشمن ممالک کی جانب سے حمایت ہونے والے دہشت گرد عناصر کی گھناؤنی کارروائیوں کا مشاہدہ کیا گیا جن کا مقصد اسلامی جمہوریہ کی پُرجوش قوتوں اور یہاں تک کہ پاکستان سے متصل پڑوسی علاقوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے تھے۔

گزشتہ برسوں میں ان میں سے کچھ واقعات کی تکرار خاص طور پر ہمارے ملک کے سرحدی محافظوں کے اغوا میں ہونے والی متعدد دہشت گردی کاروائیوں کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے اعلی عہدیداروں کے درمیان فوری رابطوں کے علاوہ اعلی سیاسی ، فوجی اور سیکیورٹی وفود اسلام آباد روانہ ہوگئے۔

 پاکستان کے اعلی سیاسی اور فوجی عہدیداروں کے ساتھ خصوصی نشستوں میں سرحدوں کو محفوظ بنانے اور دہشت گردی کی نقل و حرکت کو روکنے پر زور دیا گیا۔

ایرانی گیارہویں حکومت کی اپنے پاکستانی ہم منصب سے پہلی ملاقات

2013 کے اگست میں ایرانی گیارہویں حکومت کے صدر حسن روحانی کی تقریب حلف برداری کے ایک روز کے بعد پاکستانی صدر "آصف علی زرداری" نے اپنے ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے لئے اس ملک کا دورہ کیا۔

ایڈمیرل شمخانی کا دورہ پاکستان، سرحدوں میں بدامنی واقعات سے مقابلے کرنے کے طریقوں کی مضبوطی پر زور

اعلی ایرانی قومی سیکوریٹی کے سیکریٹری جنرل ایڈمیرل علی شمخانی نے گیارہویں حکومت کی تشکیل کے ایک سال بعد 2015 کو پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کا دورہ کرتے ہوئے عالمی جوہری معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد باہمی تعاون بڑھانے کے لئے اس ملک کے اعلی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے علاوہ دونوں ممالک کی مشترکہ سرحدوں میں بدامنی کے واقعات کو روکنے کے لئے مناسب اور سنجیدہ اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔

گزشتہ سات سالوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سرحدی اور سیکیورٹی اجلاسوں کے انعقاد کو تیز کرنا

میرجاوہ (تفتان) سرحدی کراسنگ پر ایران اور پاکستان کے درمیان باقاعدہ سرحدی ملاقاتوں کے علاوہ گیارہویں حکومت کے دوران 2014 کے 9 نومبر کو ایرانی جنوب مشرقی صوبے سیستان وبلوچستان کے شہر زاہدان کی میزبانی میں دونوں ممالک کے سرحدی کمیشن کا پہلا خصوصی اور اعلی سطحی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔

منعقدہ اجلاس میں دونوں ممالک کی وزارت داخلہ، وزارت خارجہ، پولیس فورسز، سرحدی اور سیکورٹی عہدیداروں نے شرکت کی جس میں سرحدی تجارت، سرحدی مارکیٹ، سرحدی سلامتی اور انسداد منشیات پر تبادلہ خیال اور باہمی تعاون کے معاہدے پر دستخط کیا گیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کی آخری سرحدی نشست تقریبا چھ ماہ قبل کی ہے جو 22ویں مشترکہ سرحدی اجلاس کا 2020 کے 3 جنوری کو پاکستانی شہری کوئٹہ میں انعقاد کیا گیا۔

صدر روحانی کے پاکستان کے دو نتیجہ خیز دورے

ایرانی صدر مملکت حسن روحانی نے 2016 کو اقتصادی تعاون تنظیم ایکو کے رکن ممالک کے درمیان سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے پہلی بار پاکستان کا دورہ کیا جس دورے کے دوران باہمی تعاون کے چھ معاہدوں پر دستخط کردیا گیا۔

ایرانی وزیر خارجہ کے دس دورے پاکستان

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اب تک دس بار کے لئے پاکستان کا دورہ کیا۔

انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دینے کے لئے گزشتہ سال اس ملک کا دورہ کیا۔

سرحدی معاہدوں کا حصول خاص طور پر دہشت گردی کے عناصر کے ذریعہ کچھ رونما ہونے والے بدامنی واقعات کے دوران متعدد ایرانی سرحدی محافظوں کی شہادت کا جائزہ ظریف کے پاکستان دوروں کے ایجنڈے میں ہمیشہ رہے ہیں۔

باڑ لگانے کے منصوبے کا آغاز ، جنرل باقری کا دورہ پاکستان اور جنرل باجوہ کا دو دورے ایران

پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دوبار کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کا دورہ کیا جو دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعلقات بڑھانے کی کوششوں کی علامت ہے۔

ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری نے بھی 2018 کو پاکستان کا دورہ کیا جس میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدوں کے جائزہ لینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بارڈر پٹی باڑ کا منصوبہ ، عمران خان کا دورہ ایران

یاد رہے کہ سرحدپار دہشتگردوں نے 2019 کے 13 فروری کو زاہدان،خاش روڈ پر پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کی بس کو کار بم دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 27 اہلکار شہید اور 13 زخمی ہوئے.

دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی مشاورت اور اس کے بعد پاکستانی وفد کے دورے ایران کے نتیجے میں سرحدی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے دونوں ممالک کے عہدیداروں کے درمیان موثر ہم آہنگی اور سرحدی علاقوں میں فوجیوں کی موجودگی میں اضافے کے لئے پاکستانی فریق کے وعدے کا بھی اظہار کیا گیا۔

اس کے بعد ، پاکستانی فوج کے ترجمان نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ سرحدی پٹی کو باڑ لگانے کے منصوبے پر عمل درآمد کا اعلان کیا۔

22 اپریل 2019 کو عمران خان کے دورے ایران کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون خاص طور پر بارڈر مینجمنٹ کے شعبے میں مضبوط بنانے میں مدد ملی۔

صدر روحانی اور عمران خان نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک تیزی سے تمام شعبوں خاص طور پر خطے میں دہشت گردی، سرحدی تحفظ اور سلامتی اور استحکام کے خلاف جنگ میں ہم آہنگی میں تعلقات کو مستحکم کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔

مغوی ایرانی سرحدی محافظوں کا مسئلہ اٹھایا گیا

تفصیلات کے مطابق 15 اکتوبر 2019 کو پاک ایران سرحد کے قریب دہشتگردوں ںے انقلاب مخالف عناصر کے ساتھ مل کر ایران کے 14 سرحدی اہلکاروں کو اغوا کر لیا. ان اہلکاروں کو علی الصبح لولکدان کے سرحدی علاقے سے ایک دہشتگرد گروہ نے اغوا کیا۔

واضح رہے کہ ان مغوی اہلکاروں میں سے 12 کو بازیاب کردیا گیا ہے اور 2 اہلکار ابھی دہشتگرد عناصر کے ہاتھوں میں ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے جنرل باجوہ کے ساتھ ملاقات کے دوران باہمی تعلقات بشمول سیاسی، معاشی، فوجی، دونوں ممالک کی سرحدی سلامتی، دہشت گرد گروپ "جیش العدل" کے ذریعے باقی ایرانی مغوی اہلکاروں کی بازیابی،مشترکہ علاقائی تعاون اور خطے میں موجودہ تبدیلیوں بشمول افغانستان کے مسائل اور باہمی دلچسبی امور پرتبادلہ خیال کیا.

پاکستان کو ایران کے ساتھ تعلقات میں دشمنوں کی سازشوں سے محتاط رہنا چاہئے

باہمی تعلقات کو ختم کرنے کے لئے تیسرے فریق کی مشترکہ سازش اور مشترکہ دشمنوں کا منصوبہ ان اہم نکات میں سے ایک ہے جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی عہدیداروں بشمول قائد اسلامی انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور صدر روحانی نے ہمیشہ اس پر زور دے رہے ہیں۔

پاکستانی وزیر اعظم نے ایرانی سپریم لیڈر کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران کہا کہ ہم دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت سے مستقل رابطے میں رہیں گے۔

یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ ایران اور پاکستان میں حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ ہی نہ صرف دونوں ممالک کے مابین دیرینہ دوستانہ تعلقات میں کبھی تبدیلی نہیں آئی بلکہ دونوں ہمسایہ ممالک کے اعلی عہدیدار ان تعلقات کو مستحکم کرنے کے لئے زیادہ پرعزم ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 3 =