ایران کیلیے بائیڈن اور ٹرمپ کےدرمیان کوئی فرق نہیں ہے:واعظی

تہران، ارنا - ایران کے صدراتی چیف آف اسٹاف نے اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے ٹرمپ اور بائیڈن کے مابین کوئی فرق نہیں ہےاور ایران کے مفادات امریکہ میں لوگوں کی آمد سے منسلک نہیں ہیں اور ایران کا امریکہ کے ساتھ تعلقات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

یہ بات محمود واعظی نے ہفتہ کے روز ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں جوہری معاہدے کے مسئلے اور اس بین الاقوامی معاہدے سے امریکہ کے نکلنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں امریکہ پر اعتماد نہیں تھا۔ یورپ پر بھی اعتماد نہیں ہے۔ ہماری تفہیم مفادات پر مبنی ہے ، اور ہم اس وقت تک پابند ہیں جب تک ہمارے مفادات محفوظ ہیں۔ ہم اپنے مفادات کی بنا پر کسی ملک کے ساتھ مذاکرات کرتے ہیں۔

واعظی نے کہا کہ یورپی ممالک جوہری معاہدے کو برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور آج وہ امریکہ کے دباؤ میں پرعزم نہیں رہ سکتے۔ ابھی تک یورپ نے دکھایا ہے وہ کسی اصول پر مبنی نہیں ہے اور انہوں نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا ہے اور امریکی انتخابات کے اختتام تک وقت کی خریداری کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال ڈاکٹر روحانی نے جوہری کے ممبروں کو ایک خط لکھا تھا، جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ اگر جوہری معاہدے اب ہمیں فائدہ نہیں پہنچے تو فائدہ مند ثابت نہیں ہوگا۔

ہمیں جوہری معاہدے کے فوائد کو استعمال کرسکنا چاہیے اور اس سال کے کے اکتوبر میں ایرانی اسلحے پر پابندی کی مدت ختم ہوجائے گی اور ہم ہتھیاروں کی تجارت کرسکیں گے تو اگر ہم اس مفادات کا استعمال نہیں کر سکتے ہیں لہذا  یہ ہمارے مفاد میں نہیں ہوگا۔ اور اس خط میں ایرانی صدر نے لکھا تھا کہ اس شق کو پورا نہ کرنے کی صورت میں ایران کیا کرے گا۔

انہوں نے کہاکہ اسلامی جمہوریہ کے دشمن ایران میں انتشار پیدا کرنے اور ہمارے ملک کو الگ تھلگ کرنے اور عوام اور نظام کے مابین ایک خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور چونکہ وہ پابندیوں سمیت مختلف طریقوں سے اپنے مقاصد کو حاصل نہیں کرسکے ہیں اب غصے میں ہیں.

واعظی درخصوص مطالبات ایران از  کره جنوبی گفت که ایران درحال مذاکره است و چنانچه مذاکرات به نتیجه نرسد ؛‌اقدام حقوقی خواهیم کرد.

جنوبی کوریا سے ایران کے مطالبات کے بارے میں کہا کہ ایران مذاکرات کر رہا ہے اور اگر بات چیت ناکام ہوئی تو ہم قانونی کارروائی کریں گے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 1 =