سربرینکا میں نسل کشی کی وجہ یورپ کیجانب سے اپنے بنیادی فرائض نبھانے میں ناکامی تھی: ظریف

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سربرینکا میں نسل کشی کا آغاز اس وقت ہوگیا جب یورپ اپنے بنیادی فرائض کو نبھانے میں ناکام رہا۔

یہ بات "محمد جواد ظریف" نے آج بروز ہفتے کو ایک ٹوئٹر پیغام میں کہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ 25 سال پچھلے ٹھیک اس دن میں سربرینکا میں نسل کشی کا آغاز اس وقت ہوگیا جب یورپ اپنے بنیادی فرائض کو نبھانے میں ناکام رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے کے 25 سالوں گزرنے کے بعد یورپ ابھی بھی ان جیسے واقعات میں بے بس ہے۔

ظریف نے اس بات پر زوردیا کہ اسی وقت اقوام متحدہ کیجانب سے کسی بھی اقدام اٹھانے سے انکار آج کیلئے سبق بننا چاہیے۔

واضح رہے کہ بوسنیا میں مسلم نسل کشی کے 25 سال مکمل ہوگئے جہاں صرف سربرینکا کے قصبے میں 8 ہزار سے زائد مسلمانوں کو لقمہ اجل بنا دیا گیا تھا اور اس واقعے کوجنگ عظیم دوم کے بعد یورپ کا تاریک ترین واقعہ گردانا جاتا ہے۔

نوے کی دہائی میں بوسنیا اور سربیا کی فوج نے نسلی تنظمیوں اور دیگر منافرت پسند جماعتوں کی آشیرباد سے غیرسرب کو بے دخل کرنے کے لیے کارروائی شروع کی تھی جو نسل کشی پر اختتام پذیر ہوئی۔

فوج کی بے رحم کارروائیوں سے جان بچانے کے لیے ہزاروں مسلمانوں نے گھربار چھوڑ دیا اور سربرینکا سمیت مشرقی علاقے میں پناہ لی، اس علاقے کو اقوام متحدہ نے سیف زون قرار دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق 1992 سے 1995 کے درمیان جاری رہنے والے بوسنیا جنگ میں مشرقی علاقے میں جاں بحق ہونے والے تقریباً ایک ہزار مسلمانوں کی لاشیں تاحال غائب ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 8 =