ایران اور چین کے جامع تعاون کے منصوبے سے امریکی مخالف کی توقع تھی

بیجنگ، ارنا- چین میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے دونوں ملکوں کے درمیان 25 سالہ جامع تعاون منصوبے کیخلاف بیانات کے رد عمل میں کہا کہ ان سب مخالف بیانات کا اظہار ان گروہوں اور دشمن عناصر کیجانب سے کیے جاتے ہیں جو بڑے ملکوں جیسے چین سے ایران کے تعلقات کے فروغ کے خواہاں نہیں ہیں اور ہم اس معاہدے سے متعلق امریکہ سے مخالف کے سوا کوئی اور توقع نہیں رکھتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار "محمد کشاورز زادہ" نے ہفتے کے روز ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے ایران اور چین کے درمیان جامع تعاون منصوبے کیخلاف رد علموں کو مضحکہ خیز قرار دے دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ جیسے ممالک جو ایران کیخلاف ظالمانہ پابندیاں عائد کرتے ہیں اور حتی کہ دیگر ممالک بشمول جاپان اور جنوبی کوریا میں ایرانی رقوم کو منجمد کرکے ان سے ادویات اور خوارک کی فراہمی کیلئے استعمال کی اجازت نہیں دیتے ہیں اب ہمارے ملک سے دوستی کا دکھاوے کرتے ہوئے مضحکہ خیر دعوے کر رہے ہیں۔

کشاورزادہ نے اس طرح کے مضحکہ خیز دعووں کو ایرانی عوام کے اجتماعی آگاہی کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور چین کے درمیان جامع تعاون منصوبے کے فریم ورک کے اندر ایرانی جزائر کو چین کے سپرد کردینا اور ایران میں چینی فورسز کی تعیناتی جیسے دعوے انتہایی مضحکہ خیز ہیں اور در اصل ایک قسم کے پروپیگنڈے ہیں۔

انہوں نے ایران میں بعض میڈیا والوں کیجانب سے اس طرح کے دعووں کی باز اشاعت کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ دعوے  سب من گھرٹ اور بے بنیاد ہیں اور اگر اس  منصوبے کی حتمی شکل دے جائے تو وہ  ایران اور دیگر ملکوں کے درمیان تعلقات پر مثبت اثرات مرتب کرے گا۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ امریکہ نے ایران کو دنیا میں الگ کرنے کی انتہایی کوشش کی اور حتی کہ اس بات کا دعوی کیا کہ وہ ائندہ 6 مہینوں کے دوران، ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کردیتے ہیں تو جب کسی ملک ایرانی معیشت کو 6 مہینوں کے اندر اندر تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کرتا ہے تو وہ یقینا ایران اور چین کے جامع تعاون کے مخالف کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور چین کے درمیان جامع تعاون در اصل تہران اور بیجنگ کے تعلقات کا روڈ میپ ہے اور یہ کسی معاہدے کے طور پر نہیں بلکہ در اصل باہمی تعلقات کی توسیع کی مفاہمت ہے۔

کشاورز زادہ نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران تہران اور بیجنگ کے تجارتی تعلقات کی شرح 23 ارب ڈالر تک پہنچ گئی اور ایرانی برآمدات نے چینی درآمدات کو پیچھے چھوڑ دیا اور اب چین بحثیت ایرانی مصنوعات کے خریدار کے ہماری ملک کی معیشت میں مثبت اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 2 =