سربیا کے صدر کے آئندہ دورے ایران سے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کا نیا باب کھولے گا

بلغراد، ارنا- سریبا میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے دونوں ملکوں کے درمیان 80 سالہ تزویراتی تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قریب مستقبل میں سربیا کے صدر "الکساندر ووچیچ" سے  باہمی تعلقات کے فروغ اور گہرے دوستی کا عزم ثابت ہوتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار "رشید حسن پور" نے ہفتے کے روز ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے  کہا کہ کرونا وائرس کے بحران ختم ہونے کے فورا بعدا سربیا کے صدر ممکلت ایران کا دورہ کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے دورے ایران سے دونوں ملکوں کے درمیان  کم سے کم  تعاون کے 10 معاہدوں پر دستخط ہوگا۔

حسن پور نے کا کہنا ہے کہ ایران اور سربیا میں زارعت، کان کنی صنعت، تعمیراتی، توانایی اور پیٹرو کیمیل اور سیاحتی  شعبوں میں تعاون کے بے پناہ صلاحتیں موجود ہیں۔

انہوں نے حالہ سالوں کے دوران دونون ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 2018ء میں باہمی تجارتی حجم کی شرح 52 ملین 300 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی جس میں ایران کی سربیا کو برآمدات کی شرح 42 ملین 400 ہزار ڈالر تھی جبکہ سربیا سے ایران کو برآمدات کی شرح  9 ملین 800 ہزار ڈالر تھی۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ سربیا نے "سربیا میں دنیا" کے منصوبے کے فریم ورک کے اندر ایرانی طلبا کو اسکالر شپ دیتا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران نے سربیا کے طالب علموں کیلئے ملک میں تعلیم مکمل کرنے کی فراہمی کرتا ہے۔

اب بلغراد یورنیورسٹی میں قریب 300 ہزار طالب علم  زبان اور ادب کے شعبے میں زیر تعلیم ہیں؛ اس کے علاوہ 2019ء میں بلغراد کے کالج برائے مشرقی علوم کے کالج میں گوشہ ایران کا افتتاح کیا گیا جو طلبا کو فارسی زبان اور ایرانی ثقافت پر راغب کرنے کا ایک اہم قدم ہے۔

حسن پور نے مزید کہا کہ عنقریب بلغراد یونیورسٹی میں فارسی و زبان اور ادب کے شعبے کا قیام ہوگا اور اس کے نئے سمسٹر بھی 2021- 2022 سے اغاز ہوگا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 7 =