جنرل سلیمانی کا قتل امریکی ریاستی دہشت گردی کی واضح مثال ہے: تخت روانچی

نیویارک، ارنا – اقوام متحدہ میں ایرانی مستقل مندوب نے نے سردار سلیمانی کے قتل کو امریکی ریاستی دہشت گردی کی واضح مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مجرمانہ فعل امریکی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

یہ بات مجید تخت روانچی نے جمعہ کے روز دہشتگردی کے ساتھ مقابلہ سے متعلق ورچوئل نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری دورہ عراق کے دوران خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ہیرو 'جنرل سلیمانی' کا بہیمانہ قتل ، ریاستی دہشت گردی اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی کی ایک واضح مثال ہے جس جرم کے مرتکب افراد کو مجرمانہ ذمہ دار قرار دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والے وحشیانہ جبر اور ظلم کو بدترین قسم کی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے جو عالمی برادری کے ذریعہ جس کی مذمت کی جانی چاہیے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا واحد راستہ بین الاقوامی اور اجتماعی تعاون کے ذریعہ کثیرالجہتی کو مضبوط بنانا ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف امریکی سفیر کے الزامات کے جواب میں کہا کہ ایران شروع سے ہی خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں داعش اور القاعدہ جیسے گروپوں کے خلاف سب سے آگے رہا ہے۔ خطے میں امریکی مداخلت پسندانہ پالیسیاں خطے اور پوری دنیا میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کا ایک بڑا عنصر ہیں۔

انہوں نےامریکہ یمن میں مہلک ہتھیاروں کی فراہمی کی وجہ سے بے گناہ لوگوں کے قتل کے تسلسل کا ذمہ دار ہے۔

تخت روانچی نے کہا کہ امریکہ ایک انتہائی بدنام زمانہ دہشت گرد گروہ 'منافقین' کا سب سے بڑا حامی ہے جس نے 12ہزار سے زائد ایرانیوں اور عراقیوں  کی ایک بڑی تعداد کو قتل کیا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 5 =