ایران اور چین کے رہنماؤں کی سیاسی خواہش اسٹریٹجک تعلقات کو فروغ دینا ہے: موسوی

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ایران اور چین کے درمیان اسٹرٹیجک تعلقات کے فروغ سے متعلق دونوں ممالک کے رہنماوں کے سیاسی عزم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حتمی مذاکرات کے بعد ایران اور چین کے تعاون کے معاہدے کو قانونی عمل کے دوران پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار "سید عباس موسوی" نے آج بروز بدھ کو سوشل میڈیا میں ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ تعاون کے روڈ میپ کیخلاف جھوٹے دعووں کے رد عمل میں بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2015ء میں ایران اور چین کے صدور کے درمیان ایک معاہدے پردستخط کیا گیا جس کی شق نمبر 6 کے مطابق دونوں ملکوں نے واضح طور پر تعلقات کی توسیع کے حوالے سے ایک 25 سالہ تعاون کے روڈ میپ کو مرتب کرنے کے عزم کا اظہار کردیا جس کے مطابق تمام شعبوں بشمول سیاسی اور اقتصادی میدان میں ایران اورچین کے تعلقات میں مزید مضبوطی آئے گی۔

موسوی نے کہا اس دستاویز کا ابتدائی مسودہ دونوں ممالک کے خصوصی اداروں کی شراکت سے تیار کیا گیا ہے اور فی الحال یہ بات چیت کے مرحلے میں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یقینا؛ حتمی مذاکرات کے بعد ایران اور چین کے تعاون کے معاہدے کو قانونی عمل کے دوران پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

موسوی نے اس معاہدے سے متعلق امریکی وزیر خارجہ کے معاندانہ رد عمل کے حوالے سے کہا کہ بلاشبہ، وہ ایران اور چین کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات جو دونوں ممالک کے عوام کیلئے مفادات رکھتے ہیں، کے دشمن ہیں اور وہ ان مذاکرات اور اس دستاویز کی ناکامی کو شکست دینے کی پوری کوشش کریں گے۔

موسوی نے خلیج فارس میں ایرانی جزیروں کے کرائے پر لینا، کم قیمت پر تیل فروخت کرنے کی اجارہ داری، مسلح افواج کی تعیناتی وغیرہ جیسے الزامات کو مضحکہ خیز قرار دے دیا جو مسترد کرنے کے قابل بھی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کو مرتب کرنے میں صرف اور صرف ایرانی عوام کے مفادات کا لحاظ کیا گیا ہے کہ ان شاللہ ایران عوام اس کے ثمرات سے مستفید ہوجائیں گے۔

موسوی نے اس امید کا اظہار کردیا کہ اس معاہدے کو عنقریب حتمی شکل دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ظاہر ہے کہ جب تک مذاکرات کو حتمی شکل نہیں دی جاتی ہے اس وقت تک کوئی متن درست نہیں ہوتا ہے، لہذا میڈیا والوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ مضامین دوبارہ شائع کرنے سے باز رہیں جو مختلف مقاصد کیلئے تیار اور شائع کی گئیں ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 9 =