ایرانی محققین کی سہ رخی سمینٹ پرنٹرز کے فروغ کیلئے نئے طریقے کی تجویز

تہران، ارنا- ایران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی کی فیکلٹی آف سول انجینئرنگ کے نانوومیٹریز ریسرچ سنٹر کے محققین نے ایک نئی تکنیک کو فروغ دیا ہے جو سہ رخی پرنٹنگ کے شعبے میں ایک نیا اور موثر طریقہ ہے جس سے تعمیراتی شعبے میں اس کی کارکردگی کا مزید فروغ دے گا۔

تفصیلات کے مطابق سہ رخی پرنٹگ میں عملوں کا ایک مجموعہ شامل ہوتا ہے جہاں سہ رخی آبجیکٹ کو تشکیل دینے کے لئے مادوں کو ایک کنٹرول انداز میں جوڑا جاتا ہے اور یہ عام طور پر مرحلہ وار کیا جاتا ہے۔

سہ رخی پرنٹنگ کا عمل کچھ اس سے ملتی جلتی ہے جب باقاعدگی سے پرنٹرز پر سیاہی چھڑک جاتی ہے لیکن یہاں فرق یہ ہے کہ اس بار سیاہی کے بجائے دوسرے مواد کو ایک دوسرے کے اوپر رکھا گیا ہے۔

اس حوالے سے ایرانی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی کے اسکول آف سول انجینئرنگ کے سینٹر فار نانو سائنس ریسرچ کے محققین نے امریکہ کی رائس یونیورسٹی کے محققین کے ساتھ مل کر ایک بین الاقوامی مطالعہ کیا۔

یہ مطالعہ امریکہ اور آسٹریلیا کی یونیورسٹیوں کے تعاون سے کیا گیا تھا اور اس تحقیق میں، ایرانی محققین سہ رخی سیمنٹ پرنٹرز کے شعبے میں کی نئی تکنیک پیش کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

اس ریسرچ کے نتیجے کو امریکن کیمیکل سوسائٹی کے ممتاز جریدے ACS Nano میں شائع کیا گیا اور اس مطالعے کے نتائج سے توقع کی جارہی ہے کہ تعمیر کے میدان میں تھری ڈی پرنٹنگ کے طریقوں کی ترقی کی جائے گی۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 3 =