ایرانی بارہویں حکومت پاکستان کیساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دےگی

اسلام آباد، ارنا - کورونا وائرس 19 کی وبا کے پھیلنے سے تمام ممالک کی اقتصادی اور تجارتی سرگرمیاں خاص طور پر اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے مابین سرحدی تجارت متاثر ہوئی ہے لیکن دونوں ممالک کے عہدیداروں کے اتفاق رائے اور عزم نے دونوں ممالک کے مابین تجارت کو نئی قوت بخش دی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ چار دیگر سرحدی گزرگاہوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے پاکستانی حکومت کا حالیہ فیصلہ ، کرونا کی صورتحال کے باوجود ، دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین باہمی تعاون کا ایک اہم موڑ اور سرحد پار تجارت میں ایک نیا باب ہے۔
اسی دوران ، ہمارے ملک کے کسٹم ترجمان نے اعلان کیا کہ آج (پیر) سے پاکستانی سرحد پر واقع سیستان و بلوچستان کی تین مارکیٹین 'ریمدان، کوہک اور پشین' مکمل طور پر کھول گئیں اور دونوں ممالک کے مابین تجارت معمول پر آگئی ہے۔

ایران پاکستان کے درمیان سرحدی تبادلوں کی مسلسل ضرورت اور کورونا بحران جیسے مشکل حالات پر قابو پانے کے لئے مشترکہ منصوبے کی تیاری ناگزیر ہے اور دونوں ہمسایہ ممالک کے اعلی عہدیدار اس سے لاعلم نہیں ہیں اور موثر اور بروقت اقدامات کے ساتھ انہوں نے کورونا کے پھیلنے سے پیدا ہونے والی صورتحال کے باوجود ایران اور پاکستان کے مابین تجارتی تعاون کے راستے میں موجودہ مسائل پر قابو پانا ممکن بنایا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے رواں سال کے مئی مہینے میں پاکستانی وزیر اعظم 'عمران خان' سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ طبی ہدایات کی مکمل تعمیل کے ساتھ دونوں ممالک کی بارڈر مارکیٹوں کو دوبارہ کھولنے سے تہران اسلام آباد  کے مابین تجارتی تعلقات کو بڑھانے کا باعث بنی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم دوسرے ممالک کی طرح پاکستان کے ساتھ بھی مشترکہ سرحدی تجارت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

ایرانی صدر نے 24 جون ایران میں پاکستانی سفیر ' رحیم حیات قریشی' کے ساتھ ایک ملاقات میں دونوں ممالک کے  مابین بارڈر کھولنے اور مصنوعات کے تبادلے کو بڑھانے اور مشترکہ معاہدوں پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

صوبے بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں تعینات ایرانی نئے قونصلر "حسن درویش وند" نے کہا کہ وہ مشترکہ تجارت کو آسان بنانے اور دونوں ممالک کے مابین کاروباری تعاون کو جاری رکھنے کے مقصد کے ساتھ پاکستانی سرکاری عہدیداروں اور تاجر برادری سے مستقل رابطے میں ہے۔

درویش وند نے حالیہ دنوں میں پاکستانی عہدیداروں کے ساتھ تجارت کو آسان بنانے اور سرحدی تبادلے کی ترقی میں رکاوٹوں کا جائزہ لینے کے لئے بہت تعمیری نشستیں منعقد کی ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 6 =