ایران کا اقوام متحدہ سے لبنان میں چار مغوی ایرانی سفارتکاروں کے معاملے میں تعاون کا مطالبہ

نیویارک، ارنا- اقوام متحدہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام میں ایک خط میں ان سے لبنان میں اغوا کیے گئے چار ایرانی سفارتکاروں کے معاملے میں حقیقت معلوم کرنے والی کمیٹی کی تشکیل میں تعاون کا مطالبہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق پانچ جولائی 1982ء میں لبنان میں چار ایرانی سفارتکاروں کا اغوا کیا گیا اور اب تک ان کی صورتحال سے متعلق کوئی بھی معلومات دستیاب نہیں ہے۔

اس حوالے سے "مجید تخت روانچی" نے ایرانی سفارتکاروں کے اغوا کی 38 ویں سالگرہ کے موقع پر سربراہ اقوام متحدہ کے نام میں ایک خط میں کہا ہے کہ موصولہ معلومات کے مطابق ان افراد کو اغوا کرنے کے فورا بعد بیروت کے قریب صہیونی ریاست کے زیر قبضے علاقے میں صہیونی ریاست کے اہلکاروں کا حوالہ دیا گیا ہے اور معلومات کے مطابق وہ صہیونی ریاست کے جیلوں میں زیر قید اور زندہ ہیں۔

انہوں نے 2008ء میں اقوام متحدہ کے سربراہ کیجانب سے ایرانی سفارتکاروں کی صورتحال پر روشنی ڈالنے میں تعاون کی تیاری کا ذکر کرتے ہوئے 38 سالوں کے دوران ایرانی سفارتکاروں اور ان کے اہل خانوں پر گزرے ہوئے مصائب اور دکھ درد کی یاد دہانی کرائی۔

تخت روانچی نے اس معاملے کی انسانی پہلووں کا ذکر کرتے ہوئے ایران کی تجویز کی بنا پر عالمی ریڈکراس کمیٹی کیجانب سے اس حوالے سے حقیقت معلوم کرنے والی کمیٹی کی تشکیل میں اقوام متحدہ سے تعاون کا مطالیہ کیا۔

انہوں نے ایرانی سفارتکاروں کے اغوا کرنے کو بین الاقوامی قوانین اور انسان دوستانہ حقوق کیخلاف وزی قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے اقوام متحدہ کے فرائض اور ناجائز صہیونی ریاست کی ذمہ داری پر زور دیا۔

ایرانی مندوب نے اس حوالے سے لبنانی حکومت کے تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لبنان کی اس وقت کی حکومت نے باضابطہ طور پر اقوام متحدہ سے ایرانی سفارتکاروں کی صورتحال پر روشنی ڈالنے کے تعاون کا مطالبہ کیا تھا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 6 =