ظریف بحیرہ روم ڈائیلاگ میں اپنی متحرک سفارتکاری کا مظاہرہ کریں گے

تہران، ارنا- بحیرہ روم ڈائیلاگ کی آنلائن نشست کل بروز پیر کو اطالوی انسٹی ٹیوٹ برائے خارجہ پالیسی مطالعات کے زیر اہتمام اور اطالوی وزیر خارجہ کے تعاون سے انعقاد کیا جائے گا جس میں ایرانی وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف"، تہران کے مقامی وقت کے مطابق 18:30 کو خطاب کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق، ظریف اس آن لائن اجلاس کے دوران اطالوی انسٹی ٹیوٹ برائے خارجہ پالیسی مطالعات کے سربراہ "پائولو مگری" سے گفتگو کریں گے۔

اگر چہ اس اجلاس میں مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ پر کرونا وائرس کے اثرات کا "ایک چیلینچ؛ مشترکہ حکمت عملی" کے نعرے کے عنوان کے تحت جائزہ لیا جائے گا لیکن ایرانی وزیر خارجہ اس اجلاس میں کرونا وائرس کی وجہ سے رونما ہونے والے مشکلات پر بات چیت کرنے کے علاوہ  عالمی طاقتوں کیجانب سے اس عالمیگر وبا کی روک تھام کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا ذکر کریں گے جن میں ایران مخالف امریکی پابندیاں شامل ہیں جن کی وجہ سے ایران کو طبی سہولیات تک رسائی میں بہت بڑا مشکلات کا شکار ہے۔

توقع کی جاتی ہے کہ ظریف اس اجلاس کے دوران ایک بار پھر ایران سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے غیر تعمیری رویے اور ایران کیخلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی امریکی پالیسی سے متعلق بات چیت کریں۔

واضح رہے کہ منعقدہ اس اجلاس کے دوران یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ "جوسپ بورل" بھی تقریر کریں گے۔

یہ بات قال ذکر ہے کہ بحیرہ روم ڈائیلاگ کے اجلاس کا محور مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ پر کرونا وائرس کے اثرات کا "ایک چیلینچ؛ مشترکہ حکمت عملی" کے نعرے کے عنوان کے تحت جائزہ لینا ہے۔

بحیرہ روم ڈائیلاگ کے اجلاس کا ہر سال انعقاد کیا جاتا ہے اور کا مقصد خطے کے روایتی نقطہ نظروں پر نظر ثانی کرنا، موجودہ چیلنجوں کو نئی تجاویز سے تجزیہ کرنا اور علاقائی اور بین الاقوامی امور کیلئے ایک مثبت اور نیا آپریشنل منصوبہ تیار کرنا ہے؛ بحیرہ روم ڈائیلاگ کا پہلا اجلاس 2015ء میں انعقاد کیا گیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 9 =