4 جولائی، 2020 7:48 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 83844154
0 Persons
لبنان میں چار ایرانی سفاتکاروں کے اغوا ہونے کی سالگرہ

تہران، ارنا- پانچ جولائی 1982 میں چار ایرانی سفارتکار لبنانی دارالحکومت بیروت میں ایرانی سفارتخانے کی گاڑی پر شام جارہے تھے جن کی گاڑی صہیونی عناصر کیجانب سے غیرقانونی طور پر روکی گئی جس کے بعد ایرانی سفارتکاروں کو اغوا کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ان سفارتکاروں میں بریگیڈیر جنرل "احمد متوسلیان"، "سید محسن موسوی"، "تقی رستگار مقدم" و "کاظم اخوان" (ارنا نیوز ایجنسی کے فوٹو جرنلیسٹ) شامل تھے اور کہا جاتا ہے کہ ان کو ناجائز صہیونی ریاست کا حوالہ کیا گیا ہے۔

احمد متوسلیان اور ان کے ساتھیوں کے اغوا ہونے کے کچھ لمحات بعد اسرائل ریڈیو نے کہا تھا کہ  جنرل احمد متوسلیان کو "بربارہ" چیک پوسٹ میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

اس واقعے سے 37 سال گزرنے کے بعد ابھی جنرل متوسلیان اور ان کے ساتھیوں کی زندہ ہونے یا نہ ہونے کی کوئی خبر نہیں ہے۔

ایرانی فنکار "محمد حسین مہدویان" نے جنرل احمد متوسلیان کے حوالے سے "Standing in the Dust" فلم کو بنائی ہے جس میں جنرل احمد متوسلیان کی زندگی اور ان کی بہادری کو دکھایا گیا ہے تاکہ لوگ خاص طور پر نوجوان اس سرزمین میں ایسے بہادر مردوں کے وجود سے واقف ہوں۔

لبنان میں حاجی احمد متوسلیان اور اس کے ساتھیوں کی صورتحال سے متعلق میں مختلف اور حتی متضاد روایتیں ہیں۔

ان کے بعض ساتھیوں اور رفقائے کار جیسے ایرانی سابق وزیر دفاع جنرل دہقان کا عقیدہ ہے کہ وہ ناجائز صہیونی ریاست کی جیلوں میں قید ہیں۔

حالانکہ ان کے کچھ دوست اور رشتہ دار جن کو اچھی طرح جانتے ہیں، کہتے ہیں کہ جنرل متوسلیان  کی روح، قید سے مطابقت نہیں رکھتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ان کو اغوا کے ابتدائی لمحات میں ہی شہید کردیا گیا تھا۔

لیکن وہ ابھی ہماری سرزمین اور ہمارے درمیان نہیں ہیں اور آج سب سے اہم بات ایسی شخصیات کو متعارف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ آج کی نوجوان نسل کو معلوم ہو کہ ہماری سرزمین کن کن لوگوں کی بہادری اور خود قربانی سے اسی پوزیشن پر پہنچ گئی ہے تا کہ وہ بھی بھر پور واقفیت کیساتھ ان کے نقش قدم پر چلیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 6 =