4 جولائی، 2020 12:01 PM
Journalist ID: 2392
News Code: 83843494
0 Persons
سلامتی کونسل کا اجلاس کثیر الجہتی پن کا مظہر تھا: ایران

تہران، ارنا – ایرانی وزیر خارجہ کے مشیر نے سلامتی کونسل کی نشست کو اس ملک کے لئے ایک اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اجلاس کے اہم نتائج میں سے ایک اقوام متحدہ کے کردار اور پوزیشن، امریکہ کے یکطرفہ رجحانات اور مطالبات کے مقابلے میں کثیرالجہتی کے طریقہ کار پر زور دینا تھا۔

یہ بات "علی نجفی خوشرودی" نے ہفتہ کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کا اجلاس 30 جون کو قرارداد 2231 کے نفاذ کے جائزہ لینے کے لئے منعقد ہوا تھا، جس نے اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنے خیالات کے اظہار کے لئے ایک بہترین موقع فراہم کیا۔
خوشرودی نے کہا کہ اس اجلاس کا ایک اہم نتیجہ اقوام متحدہ کے کردار اور پوزیشن کو اجاگر کرنا تھا۔

ایرانی خارجہ پالیسی کے اس ماہر نے سلامتی کونسل کے اجلاس کو بین الاقوامی سطح پر کثیرالجہتی اور امریکی یکطرفہ پن کے خلاف اقدام کی مثال قرار دیا۔

نجفی خشرودی نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر عائد اسلحہ کی پابندی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور اس نے عالمی امن اور سلامتی پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مشیر نے اس بات پر زور دیا کہ یورپ کو خارجہ پالیسی میں امریکہ کے خلاف زیادہ آزادی کی ضرورت ہے کیونکہ یہ تینوں یورپی ممالک کثیرالجہتی جوہری معاہدے کے رکن ہیں اور انہیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ امریکہ کو ان کی سلامتی پر پریشان نہیں اور ٹرمپ کو اس کی پرواہ نہیں ہے کہ خطے میں کیا ہوتا ہے ، لہذا یورپ کو اپنے مفادات کے بارے میں سوچو۔
انہوں نے کہا کہ یورپ کو اپنی علاقائی اور معاشی ضروریات پر غور کرنے اور اس بات کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی کو امریکہ سے جوڑنے سے ان کی آئندہ سلامتی پر مضمرات پڑے گیں۔

انہوں نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایرانی وزیر خارجہ کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ محمد جواد ظریف کی جانب سے سابق ایرانی وزیر اعظم مرحوم ڈاکٹر مصدق کے تاریخی ریمارکس کا حوالہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ آزادی کی خواہش اور قومی مفادات پر زور اس سرزمین کی تاریخ میں ہے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 13 =