خلیج فارس کو ایک طویل عرصے سے اس خطے میں امریکی جرائم کا سامنا ہے: ایران

تہران، ارنا – ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی میزائلوں کے ذریعہ ایرانی ائیربس مسافربردار طیارے پر حملے کی 32 ویں سالگرہ کی مناسبت سے اپنی ایک ٹویٹ لکھا کہ خلیج فارس کو ایک طویل عرصے سے اس خطے میں امریکی جرائم کا سامنا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک سوال پوچھا کہ امریکی انسانی حقوق کیا ہے اور اس  کے جواب میں کہا کہ" انسانوں کے قتل کا بے مثال عزم!

خلیج فارس کا علاقہ ایک طویل عرصے سے اس خطے میں امریکی جرائم کا مشاہدہ کر رہا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ 32 سال پہلے جولائی 1988 میں ایرانی مسافر بردار طیارے پر امریکی بحری بیڑے کے حملے نتیجے میں 290 ایرانی شہری شہید ہوگئے جس حملے کے جائے وقوعہ پر شہدا کے اہل خانہ و لواحقین کی جانب سے پھول نچھاور کئے گئے۔

تین جولائی انیس سو اٹھاسی میں اسلامی جمہوریہ ایران کا مسافربردار طیارہ جو دس بج کر پندرہ منٹ پر بندر عباس سے دبئی کے لئے روانہ ہوا تھا، دس بج کر چوبیس منٹ  پر چار ہزار تین سو میٹر کی بلندی پر امریکہ کے یو ایس ایس ونسنس بحری بیڑے نے  جان بوجھ کر دو میزائلوں کے ساتھ اس طیارے کا کا نشانہ بنایا، اس طیارہ جزیرہ ہنگام کے قریب گر کرتباہ ہوگیا۔

اس حادثے میں تمام  290مسافر شہید ہوگئے جن میں بارہ سال سے کم عمر کے چھیاسٹھ بچے اور باون عورتیں بھی تھیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 9 =