ایرانی طیارے پر امریکی حملے کے 290 شہدا کے جائے وقوعہ پر پھول چڑھانے کی تقریب

3 جولائی 1988 میں ایرانی مسافر بردار طیارے پر امریکی بحری بیڑے کے حملے نتیجے میں 290 ایرانی شہری شہید ہوگئے جس حملے کے جائے وقوعہ پر شہدا کے اہل خانہ و لواحقین کی جانب سے پھول نچھاور کئے گئے۔

تین جولائی انّیس سو اٹھّاسی کو خلیج فارس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مسافر بردار طیارے کو امریکی بحری بیڑے ونسنس کی جانب سے میزائلوں کا نشانہ بنائے جانے کے وحشیانہ واقعے کو آج 32 سال کا عرصہ گذر چکا ہے جن شہدا کے اہل خانہ کےاعزاز میں آج بروز جمعرات ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

تین جولائی انیس سو اٹھاسی میں اسلامی جمہوریہ ایران کا مسافربردار طیارہ جو دس بج کر پندرہ منٹ پر بندر عباس سے دبئی کے لئے روانہ ہوا تھا، دس بج کر چوبیس منٹ  پر چار ہزار تین سو میٹر کی بلندی پر امریکہ کے یو ایس ایس ونسنس بحری بیڑے سے فائر کئے جانے والے دو میزائلوں کا نشانہ بنا اور جزیرہ ہنگام کے قریب گر کرتباہ ہوگیا۔

اس حادثے میں تمام  290مسافر شہید ہوگئے جن میں بارہ سال سے کم عمر کے چھیاسٹھ بچے اور باون عورتیں بھی تھیں۔

اس ہولناک جرم کے فورا بعد امریکی حکام نے اعلان کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک ایف چودہ طیارے کو نشانہ بنایاگیا ہے۔ امریکی حکام نے اپنے کھلے جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایرانی ائیربس ائیرکوریڈور کے دائرے سے باہر پرواز کر رہا تھا اور امریکی بیڑے نے ایرانی طیارے کو سات بار انتباہ بھی دیا لیکن کوئی جواب دریافت نہیں کیا۔

اس سلسلے میں سائیڈز بحری بیڑے کے سابق کمانڈر کیپیٹن کارلسن نے کہا کہ ایرانی ائیربس غیرفوجی ہونے پرمبنی علامتیں بھیج رہا تھا اور کم رفتار سے اونچائی کی طرف پرواز کر رہا تھا اور اگراس حالت میں اس کی شناخت ایف چودہ کی حیثیت سے کی جاتی تو بھی مجھے نہیں لگتا کہ وہ ونسنس یا سائڈز یا کسی بھی بحری بیڑے کےلئے معمولی خطرہ بھی ہوسکتا تھا۔انھوں نے کہا کہ فورسٹل طیارہ بردار بحری بیڑے کے ریڈار آپریٹر نے ایک تجارتی جہاز کی حیثیت سے اس کی شناخت کی تھی۔

اگرچہ اس مسافر بردار جہاز کو مار گرانے کے بعد امریکی حکام نے اپنے اس ناقابل معافی گناہ کی توجیہ کرتے ہوئے اس دشمنانہ اقدام کو ایک غلطی سے تعبیرکرنےکی کوشش کی لیکن امریکی جنگی بیڑے وینسنس کے جدیدترین آلات اور ریڈار سسٹم سے لیس ہونے اور پرواز کے وقت طیارے کی نوعیت واضح ہونے سے یہ طے ہے کہ غلطی کا امکان موجود نہیں تھا اور یہ جارحیت پوری طرح سے جان بوجھ کرانجام دی گئی تھی –

طیارے کے ٹوٹے ہوئے حصے، اور مسافروں کی لاشیں جزیرہ ہنگام کےجنوبی ساحلوں پر ایرانی سمندری حدود کے اندر بکھرے پڑے تھے اور یہ جگہ  بندرعباس دبئی ائیرکوریڈور کےمرکزی حصے کے نیچے واقع ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ طیارہ اپنے مقررہ راستے پر پرواز کررہا تھا جیسا کہ اس واقعے کے چار سال بعد امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں لکھا کہ وینسنس بحری بیڑا ایرانی سمندری حدود میں تھا نہ کہ بین الاقوامی سمندری حدود میں اور اس وقت امریکی وزارت دفاع نے اس حقیقت کو چھپایا ہے۔

اسلامی انقلاب سے 40 سال گزرنے کے بعد بھی ایرانی عوام کے قتل و غارت اور قومی اثاثوں پر ڈاکے کے سوا ایران کو امریکہ سے کوئی فائدہ نہیں ملا. انھی سالوں میں امریکہ ایران میں مختلف شیطانی سازشوں جن میں فوجی بغاوت، نہتے عوام کا قتل میں ملوث رہا اور جیسا کہ بانی عظیم انقلاب حضرت امام خمینی (رح) نے فرمایا تھا کہ ایران اور امریکہ کے تعلقات بھیڑیے اور بکرے جیسے ہیں.

تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ایران ہرگز امریکی سرزمین پر کسی امریکی شہری کے قتل میں ملوث نہیں تھا اور نہ ہے مگر امریکہ نے ایران سے ہزاروں کلومیٹر فاصلے پر ہونے کے باوجود اپنے نام نہاد مفادات کو بچانے کے بہانے سے سینکڑوں ایرانی شہریوں کا خون کیا.

تاہم اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ کو بھاری دھکچا ملا جب تہران میں اس کا جاسوسی کا اڈہ پکڑا گیا اور ملک میں اثر و رسوخ ڈالنے کے ذرائع بند ہوگئے اور جب امریکہ نے یہ صورتحال دیکھا نے اس نے صدام سے مل کر ایران پر 8 سالہ جنگ مسلط کردی.

جب امریکہ نے ایران کے سامنے صدام کی بے بسی کو دیکھا تو اس نے خود عراق میں صدام کا تختہ پلٹایا جس کے بعد وہ خلیج فارس میں ایران کے خلاف بلواسطہ جنگ کا آغاز کیا.

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 9 =