عالمی برادری شامی عوام کیلئے امتیازی سلوک سے دور اپنی امداد میں اضافہ کرے

تہران، ارنا- آستانہ امن عمل کے ضامن ممالک کے صدور نے شامی عوام کی پریشانیوں کے خاتمے کیلئے شام بھر میں فوری اور محفوظ انسان دوستانہ امداد کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ امتیازی سلوک، سیاست یا پیش رو شرائط سے قطع نظر تمام شامی باشندوں کیلئے اپنی امداد میں اضافہ کرے۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر حسن روحانی، ولادیمیر پیوٹن اور رجب طیب اردوغان نے بدھ کے روز آستانہ امن عمل کے اجلاس کے اختتام میں 14 پیراگرف پر مشتمل ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔

انہوں نے اس بیان میں اس بات پر زور دیا کہ شام بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور وہ صرف سیاسی طریقوں اور شامی انٹرا ڈائیلاگ کے انعقاد سمیت اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 2254 کے نفاذ اور اس حوالے سے اقوام متحدہ کے سہولت کار بننے سے حل ہوجائے گا۔

انہوں نے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے قراردادوں بالخصوص گولاں کے پہاڑیوں پر قبضے سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 497 پر عمل پیرا ہونے پر زوردیا۔

اس کے علاوہ انہوں نے شام پر قبضہ کرنے کے امریکی حکومت کے فیصلے کی مذمت کی جسے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے اور یہ علاقائی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔

صدور نے شام میں ناجائز صہیونی ریاست کی فوجی کارروائی کو ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو غیر مستحکم اور مجروح کرنے اور خطے میں کشیدگی کو بڑھاوا دینے کے مترادف قرار دیا۔

آستانہ امن عمل کے ضامن ممالک نے اس بیان میں شام کی خودمختاری اور قومی سالیمت کے تحفظ سمیت ہمسایہ ممالک کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والوں کیخلاف مقابلہ کرنے پر زوردیا۔

انہوں نے شام کے مسئلے کے علاوہ مشترکہ معاشی تعاون بڑھانے کیلئے مختلف شعبوں میں سہ فریقی رابطہ کاری کو مستحکم کرنے پر زور دیا۔

اس کے علاوہ بیان میں شام سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کا اگلا اجلاس آستانہ عمل کے فریم ورک کے اندر جلد از جلد منعقد کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 1 =