آستانہ امن عمل شامی بحران کے حل کا واحد کامیاب عمل ہے: صدر روحانی

تہران، ارنا-  اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے کہا کہ آستانہ امن عمل نے شامی بحران کے پُرامن حل کا واحد کامیاب عمل کے طور پر بہت ساری کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اس کا تحفظ آستانہ امن عمل کے تین ضامن ممالک کی ذمہ داری ہے۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر حسن روحانی نے بدھ کے روز آستانہ امن عمل کے ضامن ممالک کے سربراہوں (ایران، ترکی اور روس) کے درمیان منعقدہ آن لائن اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے آستانہ امن عمل کے تین فریقی سربراہی اجلاس کو تاخیر کا شکار ہوا۔

صدر روحانی نے کہا کہ اسی عرصے کے دوران شام میں بہت بڑی تبدیلیاں نظر آئیں تو ہم نے فیصلہ کیا کہ اس اجلاس کا آن لائن طور پر انعقاد کریں اور ہمیں امید ہے کہ جلد از جلد اسلامی جمہوریہ ایران کی میزبانی میں فریقوں کی موجودگی سے آستانہ امن عمل کے اجلاس کا انعقاد ہوگا۔

**مزید طاقت سے شامی عوام اور حکومت کی حمایت کریں گے

ایرانی صدر نے کہا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد، امریکی حکومت نے شام پر غیر انسانی پابندیاں عائد کردی ہیں، جو معاشی دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران عالم اسلام خاص طور پر شام میں اقوام عالم کیخلاف کسی بھی قسم کی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتا ہے کہ وہ شامی عوام اور اس کے جائز حکومت کی زیادہ طاقت کے ساتھ حمایت جاری رکھے گا اور یہ کہ امریکی حکومت کے ناجائز اور غیر انسانی اقدامات دوست اور اتحادی ممالک کی مرضی کو مجروح نہیں کریں گے۔

صدر روحانی نے کہا کہ امریکہ جان لیں کہ وہ جو کچھ فوجی دباؤ اور دہشت گرد گروہوں کا سہارا لے کر حاصل نہیں کرسکا ہے وہ شامی عوام کیخلاف معاشی دباؤ سے بھی حاصل نہیں کرسکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ سے متعلق میں بات کی جارہی ہے تو شام کی قومی خودمختاری اور آزادی کا احترام بھی ایک بنیادی اصول ہے جس پر توجہ دینی چاہیے غیرملکی طاقتوں کی غیر قانونی موجودگی کے بغیر ایک متحدہ اور آزاد شام جو برسوں کے مصائب کے بعد نہ صرف ملک میں امن بحال کرے گا  بلکہ اس سے اپنے ہمسایہ ممالک کے استحکام اور سلامتی میں بھی مدد ملے گا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ شام بحران کے 9 سالوں گزرنے کے بعد بھی اسلامی جمہوریہ ایران کا عقیدہ ہے کہ شامی بحران کا واحد حل سیاسی طریقہ ہے اور اس بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

 صدر روحانی نے کہا کہ آستانہ امن عمل کے ضامن ممالک، آستانہ امن عمل کے تحت طے پانے والے معاہدوں کے فریم ورک کے اندر شامی انٹراڈائیلاگ کی حمایت کریں گے اور ساتھ ہی علاقے بالخصوص شام میں دہشتگرد گروہوں بشمول داعش اور القاعدہ کیخلاف جنگ پر زور دیتے ہیں۔

انہوں نے دہشتگردی کیخلاف جنگ کی راہ میں قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس حوالے سے تمام شہید ہونے والوں خاص طور دہشتگردی کیخلاف جنگ کے علمبردار جنرل سلیمانی سے خراج عقیدت پیش کیا۔

صدر روحانی نے کہا کہ  امریکہ ایک ایسا ملک ہے جس نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کا دعوی کیا اور لیکن اس نے خطے میں دہشتگرد کیخلاف لڑنے والے اور اس کے ساتھیوں کو شہید کیا اور یہ دہشت گردی کے میدان میں امریکی حکومت کے جھوٹے دعوے کی علامت ہے۔

**دہشتگردی کی لعنت کو جڑ اکھارنے تک ان کیخلاف جنگ کا سلسلہ جاری رہے گا

ایرانی صدر مملکت نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ شام اور عام طور پر اس خطے سے اس کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے فوج کی حفاظت کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہئے اور ہمیں دہشت گردوں کو عوام کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ سے متعلق بات کی جارہی ہے تو شام کی قومی خودمختاری اور آزادی کا احترام بھی ایک بنیادی اصول ہے جس پر توجہ دینی چاہیے؛ غیرملکی طاقتوں کی غیر قانونی موجودگی کے بغیر ایک متحدہ اور آزاد شام جو برسوں کے مصائب کے بعد نہ صرف ملک میں امن بحال کرے گا  بلکہ اس سے اپنے ہمسایہ ممالک کے استحکام اور سلامتی میں بھی مدد ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ شام کی سرزمین پر امریکی حکومت کی قابض افواج کی ناجائز موجودگی شام اور پورے خطے کیلئے عدم استحکام کا سبب بن چکی ہے اور ساتھ ہی فرات کے مشرق میں شام کے تیل سے مالا مال علاقوں میں غیر قانونی فوجی اڈوں میں اضافہ کرکے ملک کے قدرتی وسائل کو لوٹ رہا ہے۔

صدر روحانی نے علاقے اور شام سے امریکی دہشتگرد فوجیوں کی جلد از جلد واپسی پر زوردیا۔

انہوں نے شامی سرزمین پر ناجائر صہیونی ریاست کے قبضے میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے اس طرح کے جارحانہ اقدامات کی مذمت کی۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ناجائز صہیونی ریاست کیجانب سے گولان پہاڑیوں پر قبضہ شامی خودمختاری کیخلاف ورزی سمیت علاقے میں عدم استحکام پھیلانے کا باعث ہوگا اور اس کے نتایج کا ذمہ دار ہی ناجائز صہیونی ریاست ہوگا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 0 =