قرارداد 2231 کے نفاذ کا جائزہ لینے سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس کا آغاز

نیویارک، ارنا- ایران جوہری معاہدے کے تحت قرار داد 2231 کے نفاذ سے متعلق سربراہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کا جائزہ لینے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کا کچھ لمحات پہلے آغاز کیا گیا۔

منعقدہ اس اجلاس جو دنیا میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے آن لائن انعقاد کیا گیا، میں قرارداد نمبر 2231 کے نفاذ کی تازہ ترین صورتحال سے متعلق سربراہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کو پڑھ کر سنایا گیا۔

منعقدہ اس اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام اراکین نے اپنے اپنے نقطہ نظروں کا اظہار کیا۔

**مارک پستین دی باسیور

اس موقع پر اقوام متحدہ میں تعینات بلجیم کے مستقل مندوب "مارک پستین دی باسیور" نے قرارداد 2231 کے نفاذ کی راہ میں سہولت کار بننے کی حیثیت سے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے جوہری معاہدے کی اہمیت اور تحفظ پر زوردیا۔

**جاناتان آلن

اقوام متحدہ میں تعینات برطانیہ کے ناظم الامور نے بھی اس اجلاس کے دوران ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی اور ایران کیخلاف پابندیوں کا از سر نو نفاذ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری معاہدے کا نفاذ، دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق سب سے بہترین طریقہ ہے۔

** کرسٹوف ہاسگن

اقوام متحدہ میں تعینات جرمنی کے مندوب نے ایران جوہری معاہدے کو سفارتکاری کے شاہاکار قرار دیتے ہوئے اس معاہدے کے تحفظ پر زور دیا اور کہا کہ ہم امریکہ کیجانب سے ایران کیخلاف پابندیوں کا از سر نو نفاذ کیلئے جوہری معاہدے کے اختلافات کے حل کے مکنیزم کے استعمال کے مخالف ہیں۔

**واسیلی نبنزیا

اقوام متحدہ میں تعینات روس کے مستقل مندوب نے ایران جوہری معاہدے سے متعلق رونما ہونے والے بحران کے ذمہ دار کو امریکہ قرار دیتے ہوئے کہا امریکہ کیجانب سے ایران کیخلاف اسلحے کی پابندی سے متعلق پیش کردہ قرارداد کو خام خیالی قرار دے دیا۔

**اولوف اسکوف

اقوام متحدہ میں تعینات یورپی یونین کے مندوب نے ایران جوہری معاہدے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس معاہدے کے فریم روک کے اندر ایران سے معاشی تعلقات برقرار کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ ساڑھے تین سالوں کے دوران جوہری معاہدے سے متعلق اپنے کیے گئے وعدوں پر پوری طرح عمل کیا ہے اور حتی کہ جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے 14 مہینوں گزرنے اور ایران کیخلاف از سر نو پابندیاں عائد کرنے کے بعد بھی اسلامی جمہوریہ ایران اس معاہدے پر قائم رہا۔

اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے جوہری معاہدے کے تحت سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 نمبر کے مطابق تمام ممالک کو اسلامی جمہوریہ ایران سے معاشی تعلقات برقرار کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کی نائب سربراہ "رزماری دیکارلو" نے قرارداد 2231 سے متعلق سربراہ اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کو پڑھ کر سنایا۔

اقوام متحدہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب "مجید تخت روانچی" نے اس حوالے سے ارنا نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ اقوام متحدہ کے سربراہ اور دیگر ممالک ایران جوہری معاہدے اور قرارداد 2231 کے نفاذ کے خواہاں ہیں؛ یہ ایسی بات جس کو  سننے میں امریکہ دلچسپی نہیں رکھتا ہے لیکن اسے اس اجلاس میں ایک بار پھر سننے پر مجبور ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کا مقصد ایران جوہری معاہدے کی تباہی ہے اور ٹرمپ نے بھی پہلے ہی کہا تھا کہ وہ اس معاہدے کو نہیں مانتے۔

تخت روانچی نے کہا کہ ٹرمپ نے حالیہ سالوں کے دوران اس معاہدے کی تباہی کی بہت کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوگئے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھی وہ دنیا میں مزید تنہایی کا شکار ہوگئے لہذا وہ جوہری معاہدے کو مٹانے کیلئے ہاتھ پاوں مارتے ہیں۔

انہوں نے سلامتی کونسل کے بورڈ آف گورنز میں ایران کیخلاف تین یورپی ممالک کی تجویز کردہ قرارداد کی منظوری کو بین الاقوامی اصولوں کے خلاف قرار دے دیا۔

تخت روانچی نے کہا کہ اس قرارداد، ووٹ دینے کی قسم اور حتمی ووٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب کے سب ایران کیخلاف دباؤ ڈالنے کیلئے منصوبہ بندی کی گئی تھی اور یہ ایک ایسے وقت ہیں جب ہم عالمی ایٹمی ایجنسی کیساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس قرارداد کی منظوری حیرت کن ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے وہ محض ایران کیخلاف دباؤ ڈالنے کا ایک سیاسی اقدام ہے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ سلامتی کونسل میں ایران مخالف امریکی اقدامات کے سلسلے میں ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 5 =