ایرانی وزیر خارجہ سلامتی کونسل کی ویڈئو کانفرنس میں خطاب کریں گے

تہران، ارنا – ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" کل 2231 کی قرارداد پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ویڈیو کانفرنس میں خطاب کریں گے۔

یہ بات "سید عباس موسوی" نے پیر کے روز صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر انہوں نے گزشتہ دہائیوں میں امریکہ کے انسانی حقوق کے خلاف اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ کے تمام ادوار میں قتل و غارت گری اور انسانی حقوق کی پامالی رہی ہے، قائد اسلامی انقلاب کے ناکام قتل، اسلامی جمہوریہ پارٹی کی عمارت پر بمباری، سردشت کا واقعہ، ایرانی ایئر لائن کے مسافر بردار طیارے پر حملہ اور مختلف دہشتگردانہ قتلوں میں ملوث ہونا امریکہ کے انسانی حقوق کے خلاف اقدامات میں سے ایک ہیں۔
موسوی نے امریکہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا ملک جو انسانی حقوق کو دعوی کرنے والا ہے اور دوسرے ممالک پر سالانہ انسانی حقوق کی رپورٹس دیتا ہے اور وہ اپنے ہی ملک میں سیاہ فام افراد کے حقوق اور انسانی حقوق کی واضح طور پر خلاف ورزی کرکے منظم طریقے سے انسانی حقوق کی پامالی کررہا ہے۔

٭امریکہ ایٹمی معاہدے اور اس کے فوائد کو ختم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے٭
انہوں نے امریکہ کی سنیپ بیک میکنزیم کے آغاز کی دھمکی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اتنے مضبوط نہیں ہے کہ وہ اس کام کو انجام دے سکا، انہوں نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے اور ایٹمی معاہدے اور قرارداد 2231 کی خلاف ورزی کی، وہ ایٹمی معاہدے اور اس کی کامیابیوں کو ختم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

٭ایران اور چین کے درمیان تعاون دستاویز پر قیاس آرائیاں درست نہیں ہیں٭
انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ اسٹریٹجک اور جامع تعاون کے معاہدے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون اسٹریٹجک جہت کا حامل ہے اور یہ ہمارے دوستوں کے ساتھ اسٹریٹجک تناظر میں کام کرتا ہے اور فطری بات ہے کہ دونوں ممالک کے دشمن اسٹریٹجک تعاون کے خلاف منفی ماحول پیدا کرنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں مگر یہ دستاویز قابل فخر ہے اور دوطرفہ اسٹریٹجک تعلقات کے مفاد میں ہے۔

امریکی صدارتی انتخابات پر ایران کے نقطہ نظر سے متعلق سوال کے جواب میں موسوی نے کہا کہ ایران دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا ہے اور امریکی انتخابی مسئلہ ہمارے لئے اہم نہیں ہے۔

٭ہم اپنی دفاعی صلاحیت اور طاقت پر کسی سے مذاکرات نہیں کرتے ہیں٭
ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے 2023 تک ایرانی اسلحے کی پابندیوں میں توسیع کے لئے تین یورپی ممالک کی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی دفاعی طاقت پر مغربی ممالک کا نقطہ نظر ناقابل قبول ہے اور ہم نے ثابت کردیا کہ پابندیاں ہوں یا نہ ہوں اپنی دفاعی طاقت پر کسی سے مذاکرات نہیں کرتے ہیں اور ہمارے خلاف اسلحہ کی پابندیوں کی تجدید اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی ہے، امریکہ اور یوروپی ممالک کو اس کے تباہ کن نتائج کے ذمہ دار ہونا ہوگا۔


انہوں نے یورپ میں دہشت گرد تنظیموں کی آزاد موجودگی اور آپریشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ان کو رجسٹرڈ دہشت گردوں میں پناہ لینے کا متنبہ کیا۔
موسوی نے ادویات کی پابندیوں کے خاتمے کے لئے وزارت خارجہ کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ادویات اور انسان دوستانہ سامان کی پابندیوں کے خاتمے کے سلسلے میں سب سے بڑا اقدام ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے متعدد بار زور دیا کہ ادویات اورانسان دوستانہ اشیاء پر پابندیوں کا اطلاق نہیں ہونا چاہئے، اگرچہ امریکہ کا دعوی ہے کہ وہ پابندیوں کی فہرست میں شامل نہیں ہیں لیکن بینکاری اور ٹرانزٹ پابندیوں نے ہمارے ملک میں ادویات کی درآمدات کو عملی طور پر روک دیا ہے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 1 =