دہشت گردی کے متاثرین کے دفاع کی ایسوسی ایشن کا ڈچ عدالتی اور سفارتی حکام سے مطالبہ

تہران، ارنا- تہران میں 28 جون 1981ء (7 تیر 1360 ہجری شمسی) کے دہشتگردی واقعے کے متاثرین نے ایک بیان میں ڈچ عدالتی اور سفارتی حکام سے مطالبہ کیا تا کہ اس حادثے میں ملوث "محمد رضا کلاہی" (علی متعمد کا جعلی نام ) کے قتل کے مقدمے کی سماعت میں ان کی موجودگی کیلئے شرائط کی فراہمی ہوجائے۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ 28 جون 1981ء میں تاریخی نسل کے مجرم نے ایک بڑی قوم پر تباہی مچا دی ہے اور ایران کی تاریخ کا سب سے بڑا دہشت گردی واقعہ وقوع پذیر ہوا۔

اس واقعے کی ہولناک جہتوں نے عوام کے ذہنوں اور خیالوں میں اسے ایران کی تاریخ کا سب سے بڑا دہشت گردی جرم بنا دیا؛ اس ظلم نے لاکھوں لوگوں کے دلوں کو مجروح کیا اور سیکڑوں خاندانوں کو سوگوار کردیا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس دہشت گردی کے واقعے میں جو لوگ شہید ہوئے وہ تمام اشرافیہ اور منفرد سائنسی اور سیاسی شخصیات تھے جنہوں نے اسلامی انقلاب اور 2500 سالہ پرانے شاہی نظام کے خاتمے کی وجہ سے پارٹی کی صورت میں جمہوریت کے پہلے اقدامات کا تجربہ کیا تھا۔

ان کے پاس سامراجیوں کے زیر قبضہ ملک کے معاشرتی مسائل کو حل کرنے اور ملک کی ترقی کے سوا کوئی اور خواہش نہیں تھی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی واقعے کے متاثرین نے ایک بیان میں ڈچ عدالتی اور سفارتی حکام سے مطالبہ کیا تا کہ اس حادثے میں ملوث محمد رضا کلاہی کے قتل کے مقدمے کی سماعت میں ان کی موجودگی اور "حقیقت کو جاننے کا حق" کی فراہمی ہوجائے۔

یہ بات قابل ذکر ہے 7 تیر 1360 ہجری شمسی مطابق 28 جون 1981 کو ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ کے ایک سب سے بڑے دہشت گردانہ واقعہ کے ساتھ ہی دہشت گردانہ کارروائیاں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئیں۔

7 تیر کو ہونے والے منافقین کے دہشت گرد گروہ ایم کے او کے دہشت گردانہ بم دھماکے میں ایرانی عدلیہ کے اس وقت کے سربراہ آیت اللہ ڈاکٹر سید محمد حسینی بہشتی اور اسلامی نظام کے دیگر 72 اعلی عہدیدارشہید ہوگئے۔

شہید ہونے والوں میں 4 وزرا، 12 معاون وزرا اور تقریبا 30 اراکین پارلیمنٹ شامل تھے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 7 =