دنیا کا سب سے مائشٹھیت سائنسی ڈیٹا بیس میں ایرانی جرائد کی تین گنی ترقی

تہران، ارنا- اسلامی عالمی سائنس حوالہ ڈیٹا بیس کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایرانی سائنسی جرائد نے دنیا کے سب سے ممتاز سائنسی ڈیٹا بیس یعنی آئی ایس آئی (تجزیاتی وضاحت) میں تین گنی ترقی کی ہے۔

"محمد جواد دہقانی" نے مزید کہا کہ یہ ممتاز ڈیٹا بیس کے 4 انڈیکس میں چھپے ہوئے ایرانی جرائد کی تعداد 21 ہزار 335 ہے جن میں سے 13 ہزار 607 جرائد کا تعلق سائنس، معاشرتی سائنس اور آرٹ سے ہیں اور 7 ہزار 728 بھی جدید ترقی یافتہ سائنس سے تعلق رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2020ء میں آئی ایس آئی کے چار اصلی انڈیکس میں ایرانی جرائد کی تعداد 153 ہے۔

دہقانی کا کہنا ہے کہ ایران آئی ایس آئی ڈیٹا بیس کے انڈیکس میں ریکارڈ کیے گئے جرائد کی تعداد سے متعلق دنیا کی 22 ویں پوزیشن پر کھڑی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی کے درمیان ترکی نے آئی ایس آئی کے ڈٹیا بیس کے انڈیکس میں 225 جرائد کے ریکارڈ سے دنیا کی 15ویں پوزیشن کو اپنے نام کرلیا ہے۔

امریکہ، برطانیہ، نیدر لینڈز، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ دنیا کی وہ پانچ ممالک ہیں جنہوں نے آئی ایس آئی ڈیٹا بیس کے انڈیکس میں سب سے زیادہ جرائد کا ریکارڈ کیا ہے؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے سائنسی پبلشر ان ممالک میں واقع ہیں۔

اسپین، برازیل، اٹلی، پولینڈ اور بـھارت وہ دیگر ممالک ہیں جو اعلی سائنسی جرائد کی اشاعت میں زیادہ سرگرم ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 4 =