ایرانی تیل کی برآمدات کے حجم میں اضافہ؛ کارون کے مغرب سے جاسک تک

تہران، ارنا – خوزستان سے مکران کے سواحل تک 1000کلومیٹر طویل پائپ لائن، ایران کی توانائی مارکیٹ کی سیکیورٹی کو توسیع دینے کے علاوہ ملک کے آئل ٹرمینلز کی برآمدی صلاحیت کو 1 ملین بیرل تک فروغ دیتی اور ایشیائی منڈیوں کو برآمدات میں آسان کرتی ہے۔

گذشتہ جمعرات سے گورا سے جاسک تک خام تیل کی پائپ لائن کی تعمیر کا باضابطہ طور افتتاح کیا گیا جبکہ اس منصوبے کے نفاذ کے ساتھ ہی ایران توانائی کی منڈی معاشی اور سکیورٹی کے لحاظ سے اپنی پوزیشن کو مستحکم کرتا ہے اور کارون کے مغرب سے  بحر عمان کے ساحلوں میں خام تیل کی منتقلی اور تیل کے ٹرمینلز میں برآمدی صلاحیت میں اضافہ کیساتھ ایشیاء میں اپنی برآمدی منڈیوں کے قریب تر ہوگا۔

دوسری طرف سے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک پوزیشن کی وجہ سے ایران کو اس علاقے سے باہر اپنا تیل برآمد کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

البتہ اس منصوبے کا واحد مقصد آبنائے ہرمز سے ہماری ضرورت کو ختم کرناسمجھا نہیں جاسکتا لیکن جیساکہ ایران کے ہمسایہ ممالک جیسے سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور عراق میں اپنے خام تیل کی برآمدات کے لئے متعدد ٹرمینلز موجود ہیں ویسا بھی ایران کو بھی اپنا تیل کی برآمدات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

فی الحال ، 17 ملین بیرل خام تیل روزانہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے جو کورونا کے حالات میں دنیا کے کل تیل کے 20 فیصد کے برابر ہے۔ دنیا میں اس توانائی آبنائےکی خصوصی پوزیشن کی وجہ سے بہت سے ممالک نے اپنے تیل کو صارفین تک پہنچانے کیلیے ایک اور راستہ کا اختیار کیا ہے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 0 =