ایران پر اسحلے کی پابندی کی توسیع سے متعلق امریکی تجویز کردہ قرارداد سلامتی کونسل کیلئے تباہ کن غلطی ہے

نیویارک،ارنا- اقوام متحدہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے ایران پر اسلحے کی پابندی میں توسیع دینے سے متعلق امریکی تجویز کردہ قرارداد کو سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 کے منافی اور سلامتی کونسل کیلئے تباہ کن غلطی قرار دے دیا۔

 یہ بات "مجید تخت روانچی" نے جمعرات کے روز منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی جس میں سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 میں امریکی شراکت داری کے دعوے اور جوہری معاہدے میں اختلافات کے حل کے میکنزم کے استعمال سے متعلق بات چیت کی گئی تھی۔

 امریکی وزیر خارجہ جنہیں آج کل نفرت کے وزیر بھی کہتے ہیں، نے اس بات کا دعوی کیا ہے کہ اگر اس قرارداد کی منظوری نہ دی جائے تو وہ ایران کیخلاف پابندیوں کا از سر نو نفاذ کیلئے جوہری معاہدے میں اختلافات کے حل کے میکنزم کا نفاذ کریں گے اور وہ اس حوالے سے سابق امریکی صدر "باراک اوباما" اور سابق وزیر خارجہ "جان کری" کے ادھورے بیانات پر تبصرہ کیا۔

لیکن اقوام متحدہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مندوب نے کہا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ امریکہ کو جوہری معاہدے میں اختلافات کے حل کے میکنزم کے استعمال کا کوئی قانونی حق نہیں ہے۔

واضح رہے کہ 2015ء میں اسلامی جمہوریہ ایران، گروپ 1+5 اور یورپی یونین کے درمیان جوہری معاہدہ طے ہوا جس نے ایران جوہری پروگرام پر ایک فرضی بحران کا خاتمہ دیا اور اس معاہدے کے تحت سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 جاری کی گئی تھی جس نے جوہری معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے ایران پر پابندیاں عائد کرنے کیلئے اپنی سابقہ ​​قراردادوں کو منسوخ کردیا تھا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 6 =