امریکہ نے صہیونی جرائم کیخلاف سلامتی کونسل کی کارکردگی کو غیر موثر بنادیا ہے: ایرانی مندوب

نیویارک، ارنا- اقوام متحدہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے مقبوضہ فلسطین کے کچھ حصوں کو قابض صہیونی ریاست میں ضم کرنے کے منصوبے کو بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ناجائز صہیونی ریاست کی بدستور حمایت سے سلامتی کونسل کو اس کے جرائم کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے غیر موثر بنادیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار "مجید تخت روانچی" نے بدھ کے روز فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منعقدہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جبکہ مشرق وسطی کے اصل بحران کی وجہ فلسطین پر قبضہ ہے تو اس وقت ناجائز صہیونی ریاست، مقبوضہ فلسطین کے کچھ حصوں کو اسی ریاست میں ضم کرنے کے منصوبے کے نفاذ سے اپنے جبر اور جرائم کے تسلسل میں ایک نیا باب کھولے گا۔

تخت روانچی نے مزید کہا کہ ناجائز صہیونی ریاست کی اس طرح کی تسلط پسندانہ پالیسی مشرق وسطی کی سنگین صورتحال کو مزید غیر مستحکم اور پیچیدہ بنا دے گی، جس کے علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔

ایرانی مندوب نے کہا کہ مقبوضہ فلسطین کے علاقوں کے کچھ حصوں کا الحاق، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے جابرانہ منصوبے، امریکہ کیجانب سے گذشتہ سات دہائیوں کے دوران اسرائیلی حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور غیر قانونی اقدامات کی مکمل حمایت کا نتیجہ ہے۔

تخت روانچی نے کہا کہ امریکہ نے ناجائز صہیونی ریاست کیجانب سے بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کے باوجود تمام انسانی، اخلاقی اور بین االاقوامی قوانین کی لاپروائی کرتے ہوئے اس ریاست کی حمایت کا سلسلہ جاری کھا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے سلامتی کونسل کے مستقل ممبر کی حیثیت سے اپنے منصب کی غلط استعمال کرتے ہوئے صہیونی ریاست کا مکمل اور منظم طریقے سے تحفظ کیا ہے اور در حقیقت سلامتی کونسل کو اس ریاست کے جرائم کا مقابلہ کرنے میں غیر موثر قرار دے دیا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 9 =