"پابندیاں" ایران کے انسانی حقوق پر عمل پیرا ہونے کی بھاؤ ہیں

تہران، ارنا- ایرانی عدلیہ کے نائب سربراہ برائے انسانی حقوق اور بین الاقوامی امور نے کہا ہے کہ "پابندیاں" اسلامی جمہوریہ ایران کی انسانی حقوق کو اصلیت دینے اور سیاسی عزائم اور مفادات سے اس کے آلودگی سے اجتناب کرنے کی حکمت عملی کی بھاؤ ہیں۔

ان خیالات کا اظہار "علی باقری" نے آج بروز بدھ  میں ایران میں تعینات غیر ملکی سفیروں اور نمائندوں سمیت اقوام متحدہ کے دفتر کے کوارڈنیٹر کیساتھ منعقدہ ایک اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام کیخلاف امریکی حکومت کے زیادہ سے زیادہ دباؤ کی جڑ، ایرانی عوام کے حقوق کے مکمل تحفظ کے ساتھ ساتھ آزاد اقوام کے حقوق کے دفاع سے متعلق ایران کا پختہ عزم ہے۔

باقری نے کہا کہ سیاسی حقوق میں انسانی حقوق کی اصطلاح متعارف کروانے سے سیکڑوں سال قبل، حضرت علی علیہ السلام نے مالک اشتر معاہدے کی شکل میں انسانی حقوق کی قانونی بنیادیں دنیا کو پیش کیں۔

 انہوں نے کہا کہ کرہ ارض کی دنیا میں انسانی حقوق کے دعویداروں کے شامل ہونے سے صدیوں پہلے، اس سرزمین میں گہرے سوچ رکھنے والے لوگوں نے انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے مضبوط دستاویزات مرتب کیں۔

ایرانی عدلیہ کے نائب سربراہ نے کہا کہ اس سرزمین میں انسانی حقوق نہ صرف ایک امپورٹڈ پروڈکٹ ہیں، بلکہ یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ انسانی حقوق کے تصور کے دانشورانہ املاک کے حقوق ایرانی قوم کے ہیں۔

باقری نے کہا کہ ایران مخالف پابندیاں، اسلامی جمہوریہ ایران کی انسانی حقوق کو اصلیت دینے اور سیاسی عزائم اور مفادات سے اس کے آلودگی سے اجتناب کرنے کی حکمت عملی کی بھاؤ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لہذا؛ پچھلے چند دہائیوں سے مغربی ایشین خطے میں مختلف جنگوں اور محاذ آرائیوں میں، جن میں عراقی عوام اور صدام، فلسطینی عوام اور قابضین، شامی عوام اور دہشت گردوں اور یمنی عوام اور جارحیت پسندوں کے مابین محاذ آرائی شامل ہے، اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ ہی اقوام عالم کے ساتھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ایران میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے دعوے کرنے والی حکومتیں، بشمول انسانی حقوق کونسل کی حالیہ قرارداد کے بانیوں اور ان کے حامیوں نے، ہمیشہ آمروں، غاصبوں، دہشت گردوں اور جارحیت پسندوں کی حمایت کی ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 2 =