عالمی جوہری ادارے کی درخواست پر ایران کا مثبت جواب دوسرے ممالک سے متعلق غلط رویہ اپنانے کا باعث ہوگا

تہران، ارنا- ایرانی پارلیمنٹ کے کمیشن برائے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی نے عالمی جوہری ادارے کے بورڈ آف گورنز میں منظور کیے گئے ایران مخالف قراراداد کا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دنیا جان لیں کہ اگر ایران معلومات تک رسائی کیلئے آئی اے ای اے کی درخواست کا مثبت جواب دے تو یہ دوسرے ممالک سے متعلق غلط رویہ اپنانے کا باعث ہوگا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی جوہری ادارے کے بورڈ آف گورنز نے 19 جون کو ایرانی جوہری سرگرمیوں کیخلاف غیر پیشہ ورانہ اور سیاسی قرارداد کی منظوری سے ایک بہت بڑی غلطی کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی اے ای اے میں منظور کیے گئے حالیہ قرارداد جس کا مسودہ تین یورپی ممالک یعنی فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے تیار کیا ہے، میں ایرانی مقامات تک رسائی کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ ہمارا ملک نے حالیہ برسوں میں دوسرے ملکوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ عالمی جوہری ادارے سے تعاون کیا ہے اور اپنے کیے گئے وعدوں سے متعلق شفاف کاکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

لیکن آئی اے ای اے نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے سیاسی اور غیر پیشہ ور دباؤ کے تحت اسلامی جمہوریہ ایران کیخلاف قرار داد کی منظوری دی ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے کمیشن برائے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی نے اس قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ضوابط کے مطابق، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو جاسوسی خدمات، خاص طور پر صہیونی حکومت کے ناجائز دعووں کو معلومات تک رسائی کیلئے اپنی درخواستوں کی بنیاد رکھنے کی اجازت نہیں ہے؛ دنیا جان لیں کہ اگر ایران معلومات تک رسائی کیلئے آئی اے ای اے کی درخواست کا مثبت جواب دے تو یہ دوسرے ممالک سے متعلق غلط رویہ اپنانے کا باعث ہوگا۔

 بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تینوں یورپی ممالک، حالیہ قرار داد کی تجویز اور منظوری سے امریکہ کے مطالبات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ ظاہر کرچکے ہیں کہ وہ ایران کیخلاف دشمنی میں امریکہ سے کمتر نہیں ہیں اور یہ ایرانی عوام کی تاریخی یادداشت میں باقی رہے گا۔

بیان میں کہا ہے کہ 2015ء ایرانی پارلیمنٹ میں منظور کیے گئے آرٹیکل 6 یعنی "جوہری معاہدے کے نفاذ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ردعمل اور جوابی کاروائی" کے مطابق ایران اور عالمی جوہری ادارے کیساتھ تعاون، قومی مفادات پر مبنی ہے۔

اب عالمی جوہری ادارے کے بورڈ آف گورنز میں ایران مخالف قرار داد کی منظوری کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے کمیشن برائے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی نے ایرانی قوم کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں "اسلامی جمہوریہ ایران کیجانب سے اضافی پرورٹکل کے نفاذ کو روکنے" کے بل کو پیش اور اسے منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں بھیج دیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر کے فتوے کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے دفاعی نظریے میں جوہری ہتھیاروں کی کوئی جگہ نہیں ہے اور اسی کیساتھ ہی، ایرانی عوام بھی بین الاقوامی اداروں کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے دباؤ میں اسلامی جمہوریہ ایران کی قومی خودمختاری کیخلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 4 =