گورننگ کونسل کو سیاست کھیلنے کے بجائےایران کیساتھ مذاکرات کرنا ہوگا:  پاکستانی سفارت کار

اسلام آباد، ارنا – عالمی ایٹمی ادارے میں پاکستان کے سابق نمائندے نے ایٹمی ادارے کی گورننگ کونسل کو سیاست کھیلنے کے بجائے ایران سے بات چیت کرنا ہوگا۔


یہ بات علی سرور نقوی جو 2003 عیسوی میں تین سال کے لیے ایٹمی ادارے میں پاکستان کے مستقل نمائندے کے عہدے پر فائز تھے، نے آج بروز منگل ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی میں سابق پاکستانی نمائندے نے کہا کہ اس عالمی ادارے کی بورڈ آف گورنرز کی حالیہ ایران مخالف قرار داد اس تنظیم کی جانب سے امتیازی سلوک اور امریکہ سے یورپی شراکت داروں کی پیروی کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گورننگ کونسل کے ممبرز کو بغیر کسی سیاسی غور و فکر ایران کے ساتھ باہمی تعاون کرنا چاہیے۔ 

ایرانی کیس کے ابتدائی دنوں سے ہی گورننگ کونسل اور ایجنسی کے ممبروں کا نقطہ نظر نہ صرف غیرجانبدار نہ تھا بلکہ وہ بامقصد اقدامات بھی کررہے تھے۔

انہوں نے چین اور روس کی واضح مخالفت کے باوجود آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز اجلاس میں ایران مخالف قرارداد کی منظوری کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان سمیت سات ممالک کی جانب سے ووٹ کا اظہار نہ کرنے کا بھی مطلب یہ ہے کہ وہ اس قرار داد سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔

نقوی نے کہا کہ 2003 میں ، عالمی ایٹمی ادارے  میں تعینات پاکستانی نمائندے نے واضح طور پر کہا کہ انہیں ایرانی معاملے پر سیاسی فیصلے نہیں کرنے چاہئیں ، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے ممبروں نےغیر جانبدارانہ موقف اختیار نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ  اقوام متحدہ اور بہت سے دوسرے ممالک ایران کے بارے میں امریکی نقطہ نظر پر عمل پیرا ہیں         ، یہی وجہ ہے کہ حالیہ قرارداد سیاسی نظر آتی ہے۔

جوہری معاہدے کے یورپی شراکت داروں کو بتایا کہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی آئی اے ای اے میں ایران مخالف قرارداد کو منظور کرنے کے بجائے ایران جوہری معاہدے کے بچانے کیلیے تعمیری کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کو سیاست کھیلنے کے بجائے، ایران کے ساتھ سفارتکاری اور باہمی تعاون کے راستے پر چلنا چاہئے۔

علی سرور نقوی نے بھی ایران کے بارے میں امریکی طرز عمل کو معاندانہ اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ  بدقسمتی سے، یورپی تروئیکا اور دوسرے بین الاقوامی ادارے امریکہ کے مطالبات سے متاثر ہیں اور امریکہ ان سے جو بھی مطالبہ کرتا ہے وہ کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ آئی اے ای اے کے ساتھ تعمیری کردار اور مثبت تعلقات کو برقرار رکھا ہے اور ایٹمی تنصیبات کے دورے کیلیے آئی اے ای اے کے انسپکٹرز کے ساتھ بھی اچھا تعاون کیا ہے اور اس حوالے سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے 2003 سے اب تک کئی بار ایران کے تعمیر

ی تعاون کا اعتراف کیا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 8 =