ایران اور مشرقی ہمسایہ ملک سے آنے والے تارکین وطن کی میزبانی

تہران، ارنا – گذشتہ چار دہائیوں کے دوران ، اسلامی جمہوریہ ایران نے کروڑوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے اور ان سالوں کے دوران ، مہمانوں اور میزبان پریشان کن اور تلکیف دہ دوران سے گزر چکے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران انسانیت اور دوستی کے اصول پر مبنی ، تارکین وطن کو خدمات فراہم کرکے ایک ہمسایہ اور مسلمان ملک کی حیثیت سے اپنا کردار کو ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اگرچہ مغرب سے وابستہ کچھ ذرائع ابلاغ نے بعض واقعات کی مبالغہ آرائی کرکے ایران میں افغان تارکین وطن کے برادرانہ اور پرامن بقائے باہمی تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے لیکن تاریخی تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں ممالک کےدرمان ثقافتی اور تاریخی مشترکات کی وجہ سے دشمن کامیاب نہ ہو سکتا ہے۔

ایران کی تقریبا 4فیصد آبادی افغان تارکین وطن ہیں ، اور افغانستان کی 11 فیصد آبادی ایران میں ہین جو 3 ملین سے زائد قانونی اور غیر قانونی تارکین وطن ہیں۔ ایران میں مقیم ان تارکین وطن کو صحت ، تعلیم اور روزگار کی سہولیات میسر ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے گذشتہ چار دہائیوں میں دنیا کی سب سے بڑی مہاجر برادری خاص طور پر افغان شہریوں کی میزبانی کی ہے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ، تین لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین ، جن میں سے تقریبا 1ملین  اور 500غیر قانونی ہیں ، 800 ہزار افراد کے پاس شناختی کارڈز ہیں اور 400 ہزار سے زیادہ افراد کے پاس پاسپورٹ ہیں ایران میں زندگی بسر کرتے ہیں۔

٭٭ افغان تارکین وطن کے لئے ایران کی تعلیمی اور فلاحی خدمات

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ، 450 ہزار افغان طالب علموں جو قانونی طور پر ایران میں رہتے ہیں ایرانی اسکولوں میں بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

پانچ سال قبل سے (رہبر معظم انقلاب اسلامی کے حکم کے بعد) ایران میں تمام افغان بچوں خواہ ایران میں رہنے کیلیے ان کے پاس قانونی ڈگری ہوئے خواہ نہ ہوئے ایرانی سرکاری اسکولوں میں تعلیم مکمل کرسکتے ہیں۔

اس خیال کے مطابق، ایرانی اور افغان طالب علموں کے درمیان ایرانی اسکولوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور ایران میں 16500 سے زائد افغان طلباء زیر تعلیم ہیں اور افغانستان کے بہت سے سرکاری عہدیداران بشمول سیاسی ، ثقافتی اور تعلیمی عہدیداروں نے ایرانی جامعات میں تعلیم حاصل کی ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے مابین گہرے ثقافتی ، لسانی اور تہذیبی تعلقات کو مزید تقویت ملی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ، 750ہزار سے زیادہ ناخواندہ افغان مہاجرین خواندگی تحریک کی تنظیم  میں پڑھنا لکھنا سیکھ چکے ہیں۔ افغان شہری مختلف سطحوں پر ایران میں تعلیم کرسکتے ہیں۔

ایرانی وزارت داخلہ ، اعلی گروپ برائے مہاجرین اور ایشین انشورنس کمپنی کے مابین سہ فریقی معاہدے کے مطابق ، افغان مہاجرین اور شہری ایران میں صحت کی انشورنس سے استعمال کر سکتے ہیں۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 5 =