ایران نے اقوام متحده کے میکنزم سے غلط فائدہ اٹھانے کو شرمناک قرار دے دیا

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ایران کیخلاف انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق قرارداد کو منظور کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دوہرے معیار اپنانا اور اقوام متحدہ کے میکنزم کا غلط فائدہ اٹھانا شرم اور افسوس کی بات ہے۔

"سید عباس موسوی" نے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے 43 ویں اجلاس میں سوئڈن اور بعض مغربی ممالک کیجانب ایران کیخلاف قرارداد کی منظوری کو متعصبانہ، محاذ آرائی اور سیاسی طور پر متحرک رویوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس کی سختی سے مذمت کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہت افسوس کی بات ہے کہ انسانی حقوق کا سیاسی فائدہ اٹھانے اور دوہرے معیار اپنانے معمول اور عام بننے جار رہے ہیں۔

موسوی نے کہا کہ اس حوالے سے امریکہ میں نسل پرستی کیخلاف مظاہروں کے دباؤ سے متعلق اس ممالک کے ردعمل، خود انسانی حقوق پر خدشات کا جائزہ لینے کی ایک اچھی مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق ایران مخالف قرارداد کے حامیوں نے دوہرے معیار اپناتے ہوئے اقوام متحدہ کی میکنزم سے غلط فائدہ اٹھانے کی فضا کی فراہمی کی ہے جو انتہائی افسوس اور شرم کی بات ہے۔

موسوی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا نظام ایک دینی جمہوری نظام ہے جس میں ایرانی قوم نے مذہبی ذمہ داریوں، آئین اور اس کے عام قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کے فریم ورک میں قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی ترقی اور ترویج کیلئے اقدامات کیے ہیں اور عملی طور پر خود کو اس پر قائم رہنے پر پابند سمجھتے ہیں۔

انہوں نے ایران سے متعلق اس قرارداد کے حامیوں کے موقف کو غیر تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موقف میں بہت ساری خامیاں بشمول "انسانی حقوق کو سیاسی رنگ دینا اور اسے غلط فائدہ اٹھانا"، "مختلف معاشروں کی اقدار، عقائد اور ثقافتی خصوصیات کو نظرانداز کرنا"، "میڈیا سے متاثر ہونے اور ملک کیخلاف پروپیگنڈا کرنے کے نتیجے میں حقائق کو نظرانداز کرنا" اور "ظالمانہ پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی عوام کے انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی پر نظرانداز کرنا" ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 12 =