ریاض سے بغیر کسی پیشگی شرط سے مذاکرات کرنے پر تیار ہیں: سابق ایرانی وزیر دفاع

تہران، ارنا- سابق ایرانی وزیر دفاع اور لاجسٹک جنرل "دہقان" نے الجزیرہ ٹی وی چنیل سے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ریاض کے اتفاق سے ہم بغیر پیشگی شرط کے سعودی عرب سے بات چیت کرنے پر تیار ہیں۔

انہوں نے اس انٹرویو کے دوران ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری آئے ہے اور ہمارا موقف ابوظبی سے متعلق بدل گیا ہے۔

طرابلس میں قومی اتحاد حکومت کی تسلیم

جنرل دہقان نے اس انٹرویو کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، طرابلس میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے گئے قومی اتحاد حکومت کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے لیبیا کے مشرق میں خفتر فورسز کی ایرانی حمایت کے دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران تمام فریقین کو سیاسی طریقوں کو بروئے کار اپنانے کی دعوت دیتا ہے۔

شمالی اٹلانٹک معاہدہ آرگنائزیشن (نیٹو) کی افواج کے ایک عوامی بغاوت اور فوجی ہڑتال کے بعد لیبیا کو 2011ء سے سیاسی تناؤ اور وسیع پیمانے پر فوجی تنازعات کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کا مقصد اس وقت کے حکمران معمر قذافی کو بے دخل کرنا تھا۔

 ٹرمپ سے ہزگر مذاکرات نہیں کریں گے

سابق ایرانی وزیر دفاع نے کہا کہ ہم کسی بھی صورتحال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مذاکرات نہیں کریں گے کیونکہ ان کو صدر نہیں بلکہ مجرم سمجھتے ہیں۔

خلیج فارس میں امریکی نقل و حرکت اور مہم جویی کا ضرور جواب دیں گے

جنرل دہقان نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے میزائل پروگرام اور علاقائی پالیسیوں سے بھی مذاکرات نہیں کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ خلیج فارس میں امریکہ کیجانب سے ایران کیخلاف ہر کسی مہم جویی کا منہ ٹور جواب دیں گے۔

ریاض کو یمن میں اپنی شکست کا اعتراف کرنا ہوگا

جنرل دہقان نے اس بات پر زوردیا کہ وہ جو ابھی یمن میں ہورہا ہے یہ ایک فضول فوجی انتشار ہے جس کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاض کو یمن میں اپنی شکست کا اعتراف اور نئی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے استعفی اور مفرور صدر"عبدربہ منصور ہادی" کو وطن واپس لانے کے بہانے میں امریکہ کی مدد سے متعدد مغربی اور عرب ممالک کے اتحاد کے فریم ورک کے اندر اپریل 2015ء سے یمن کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

جس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ یمنی عوام مارے گئے ہیں اور اقوام متحدہ کے مطابق، اس ملک میں قحط دنیا کی سب سے بڑی انسانی تباہی بن چکا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 2 =