محکمہ خارجہ کے قائم مقام کی قیادت میں افغان وفد کا سرکاری دورہ ایران

تہران، ارنا- افغانستان کے محکمہ خارجہ کے قائم مقام نے اتوار کے روز ایک 45 رکنی اعلی سطحی وفد کی قیادت میں ایران کا سرکاری دورہ کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

تفصیلات کے مطابق، "محمد حنیف اتمر" اور ان کے ہمرا وفد نے ایران پہنچنے کے بعد وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" اور دیگر اعلی عہدیداروں سے ملاقات کی۔

اس ملاقات میں دونوں فریقیں نے باہمی دلچسبی امور سمیت علاقائی اور بین الاقوامی مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان قریبی تعلقات کے فروغ اور تعاون کی مضبوطی پر زور دیا۔

اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ گزشتہ 40 سالوں کے دوران سے اب تک اسلامی جمہوریہ ایران میں مشکلات اور پابندیوں کے باوجود، 30 لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کا ذکر کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ قائد اسلامی انقلاب کی ہدایت سے ایرانی اسکولوں میں 520 ہزار افغان پناہ گزینوں کیلئے مفت تعلیم کی فراہمی کی گئی ہے اور ساتھ ہی یونیورسیٹیوں میں 22 ہزار سے زائد افغان طلبا کو داخلہ مل گئے ہیں جس سے افغان عوام اور حکومت سے متعلق ایرانی عوام اور حکومت کے خیر سگالی اور برادرانہ جذبات ظاہر ہوتا ہے۔

ظریف نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران، اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت کیجانب سے افغان پناہ گزینوں کے مفت علاج کی ہدایت کو بھی ایرانی حکومت کیجانب سے افغان پناہ گزینوں کی بھر پور حمایت کی ایک اور مثال قرار دے دیا۔

انہوں نے افغان صدر "اشرف غنی" اور افغان مفاہمتی کونسل کے سربراہ "عبداللہ عبداللہ" کے درمیان سیاسی ڈیل طے پانے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے دونوں فریقیں کی درخواست سے اس حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کے مثبت کردار پر خوشی کا اظہار کردیا۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک افغان حکومت کی قیادت میں افغان انٹرا ڈائیلاگ کی حمایت اور آئین کے تحفظ اور قیام جمہوریت کیلئے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر اپنی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

در این اثنا "حنیف اتمر" نے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران، اسلامی جمہوریہ ایران کیجانب سے افغان عوام اور حکومت کی حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اافغان وفد کے حالیہ دورہ ایران کے مقصد کو مسائل کے حل اور باہمی تعلقات کا فروغ قرار دے دیا۔

انہوں نے افغان حکومت اور آئین کی حمایت، جنگ بندی کے قیام اور بین الاقوامی سطح پر افغان مذاکرات کو برادرانہ اور کلیدی اہمیت دینے کیلئے علاقائی اور بین الاقوامی اتفاق رائے پیدا کرنے میں ایران کا موثر اور نمایاں کردار پر زور دیا۔

افغان محکمہ خارجہ کے قائم مقام نے اسلامی جمہوریہ ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان میں امن عمل کو آگے بڑھانے کے لئے تعمیری کردار ادا کرتا رہے۔

اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے اندر بعض میڈیا والوں اور سیاسی دھارے، حالیہ ہفتوں کے دوران افغان پناہ گزینوں کیساتھ پیش ہونے والے المناک واقعات سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران اور افغانستان کے درمیان برادرانہ تعلقات میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ظریف نے اس امید کا اظہار کردیا کہ افغان حکومت دونوں ممالک کے مابین تعلقات خراب رکھنے والوں کی تباہ کن سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے مزید احتیاط برتے گی۔

 ایرانی وزیر خارجہ نے افغان پناہ گزینوں کیساتھ حالیہ حادثات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سرحدوں میں افغان بارڈز میں چوکیاں خالی کرنے اور اپنی ذمہ داری کو ایرانی سرحدی محافظوں پر منتقل کرنے کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان جیسے واقعات کی اصل وجہ یہ ہے کہ انسانی اسمگلرز سرحدوں پر عدم نگرانی سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔

 اس کے علاوہ سرحدوں پر اس قسم کے بدقسمتی واقعات پیش نہ آنے کو یقینی بنانے کیلئے فریقین نے مشترکہ سرحد کی مزید موثر نگرانی کی ضرورت پر زور دیا اور سرحدی نگرانی کی سطح اور معیار کو بہتر بنانے کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

اس کے علاوہ جامع تعاون کے معاہدے کے فریم ورک کے اندر ایران میں افغان پناہ گزینوں کے قانونی داخلے اور روزگار کے مواقع تک رسائی پر زور دیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ تین مہینوں کے دوران، جامع تعاون معاہدے کی حتمی شکل دی جائے گی۔

اس کے علاوہ دونوں فریقین نے علاقائی سلامتی کیلئے داعش کے خطرے کا ذکر کرتے ہوئے اس دہشت گرد گروہ سے لڑنے کیلئے دوطرفہ تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ افغان محکمہ خارجہ کے قائم مقام کی قیادت میں افغان وفد، دورہ ایران کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے دیگر اعلی عہدیداروں سے ملاقاتیں کریں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 1 =