جامع تعاون معاہدے پر دستخط سے ایران اور افغانستان کے تعلقات کا فروغ ہوگا: شمخانی

تہران، ارنا- ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ افغانستان سے جامع تعاون کے معاہدے پر دستخط دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے فروغ کا باعث ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار ایڈمیرل "علی شمخانی" نے آج بروز اتوار کو ایران کے دورے پر آئے ہوئے افغان محکمہ خارجہ کے قائم مقام سے ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے جامع تعاون معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ  اس معاہدے  پر دستخط سے باہمی تعلقات میں بنیادی تبدیلی کے علاوہ ان تاریخی تعلقات کی مزید مضبوطی کا باعث ہوگا۔

شمخانی نے افغان صدر "اشرف غنی" اور قومی مفاہمی کونسل کے سربراہ "عبداللہ عبداللہ" کے درمیان سیاسی ڈیل طے پانے ہونے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کردیا کہ اس سیاسی ڈیل سے افغانستان کے تمام شعبوں میں مزید ترقی اور پیشرفت آئے گی۔

انہوں نے گزشتہ 40 سالوں سے اب تک اسلامی جمہوریہ ایران کیجانب سے افغان مہاجرین کی میزبانی اور ایران میں مقیم 30 لاکھ سے زائد افغان تارکین وطن کی پذایرائی پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کیلئے صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں سہولیات کی فراہمی کا ذکر کیا اور کہا کہ ایرانی حکومت اور عوام افغان بہن بھائیوں کیساتھ  بدستور کھڑے رہیں گے۔

شمخانی نے علاقے میں عدم استحکام پھیلانے اور کشیدگی پیدا کرنے کی امریکی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شام اور عراق میں امریکی ذلت بار کی شکست در اصل داعش دہشتگردی گروہ کی تباہی سے وقوع پذیر ہوئی اور اب مسلمان قوموں کے دشمن عناصر، ایران اور افغانستان کے اچھے تعلقات کا نشانہ بناتے ہوئے ان دونوں ملکوں کے درمیان تعمیری تعلقات کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے غیر قانونی طور پر ایران میں دخل ہونے کیلئے افغان شہریوں کےجاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جبکہ ایرانی فورسز کا اس واقعے میں کوئی ہاتھ نہیں تھا لیکن اس حوالے سے بعض افغان ذرائع اور عہدیداروں کیجانب سے جو غیر تعمیری باتیں ہوئی تھی وہ حیران کن تھیں۔

شمخانی نے کہا کہ ایران پر عائد الزامات کی تردید کے لئے بلا شبہ ثبوت موجود ہیں جن کا افغان فریق جانبدارنہ رویوں سے دور ہوکر ان کا جائزہ لے سکتا ہے۔

اس موقع پر افغان محکمہ خارجہ کے قائم مقام "محمد حنیف اتمر" نے اسلامی جمہوریہ ایران کیجانب سے افغان عوام اور حکومت کی بھر پور حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے باہمی تعلقات کے فروغ پر زور دیا۔

انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان گہرے قریبی تعلقات کے تسلسل کو افغانستان کی ترجیحات میں سرفہرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی ثالث فریق کو باہمی تعلقات پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

افغانستان نے ان دونوں ملکوں کے دشمن عناصر افراد کی طرف سے اٹھائے گئے کچھ ناقابل قبول اقدامات پر افسوس کا اظہار کیا جنھوں نے ایسے واقعات میں افغان شہریوں کے خالص جذبات کو مجروح کرنے کا فائدہ اٹھایا جس کے نتیجے میں افغان شہریوں کے ایک گروپ جاں بحق ہوگئے۔

محمد حنیف اتمر نے کہا کہ ہم مذاکرات اور رواداری کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین تنازعات کے حل پر زور دیتے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کسی بھی طرح کی غلط بیانی کی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کردیا کہ آئندہ تین مہینوں کے دوران، دونوں ملکوں کے درمیان جامع تعاون کے معاہدے کی حتمی شکل دی جائے گی۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 12 =