ایرانی مجلس کی گورننگ کونسل کی ایران مخالف قرارداد کی مذمت

تہران، ارنا – ایرانی مجلس کے 240 اراکین نے ایک بیان میں عالمی جوہری ادارے کے بورڈ آف گورنر کی ایران مخالف قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے اسے اس ایجنسی میں ساختی امتیاز کی ایک اور علامت قرار دیا۔

اس بیان میں لکھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران این پی ٹی معاہدے کی نصف صدی طویل تاریخ میں عالمی جوہری ادارے کے ساتھ اعلی سطح پر تعاون اور شفافیت کے حامل ملک کے طور پر گورننگ کونسل کی قرارداد کو ضرورت سے زیادہ مانگ کے واضح اشارے کے طور پر دیکھتا ہے۔
اس بیان کے مطابق، ایجنسی کے معائنہ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ، 2013 سے 2019 کے عرصے کے دوران ایران میں معائنوں کی کل تعداد دنیا میں کل معائنے کے 4 فیصد سے 20 فیصد تک اور اسی طرح کے ممالک میں 93 فیصد سے بڑھ گئی ہے۔
اس بیان نے کہا کہ اسلامی مجلس اس ظالمانہ دشمنی کی حمایت نہ کرنے والے ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے غیر پابند قرار داد کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے غلبہ کلچر کی ایک اور علامت کے طور پر دیکھتی ہے۔
ایرانی نمائندوں نے اس بیان میں کہا کہ جوہری معاہدے کو برقرار رکھنے کے لئے یورپی دباؤ کی پالیسی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تینوں یورپی ممالک برطانیہ ، فرانس اور جرمنی ابتداء سے ہی تعمیری اور قابل احترام نظریہ نہیں رکھتے تھے اور اس معاہدے کو اپنے نظریاتی مطالبات کی تعمیل کے لئے ایران پر دباؤ ڈالنے کا ایک ذریعہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی مجلس عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنر کی ایرانی عوام کے مفادات کے خلاف قرارداد کی مذمت کرکے اسے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی میں ساختی امتیاز کی ایک اور علامت کے طور پر دیکھتا ہے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 4 =