ایران کا دوسرے ممالک کیساتھ قیدیوں کے تبادلے کیلئے تیار

تہران، ارنا - نائب ایرانی وزیر انصاف برائے بین الاقوامی اور انسانی حقوق امور نے کہا ہے کہ موجودہ حساس صورتحال اور کرونا وائرس کے عالمی وباء کے موقع پر ہم دوسرے ممالک کے ساتھ انسانی ہمدردی اور انسانی حقوق کے سلسلے میں اپنے تمام قیدیوں کے تبادلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔

یہ بات "محمود عباسی" نے اتوار کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے دوسرے ممالک کے سفیر اور نمائندوں کا اعلان کیا کہ قیدیوں کے تبادلے کے لئے تیار ہیں۔
عباسی نے کہا کہ وزیر انصاف نے بیرون ملک ایرانیوں بالخصوص ان ایرانیوں جو دوسرے ممالک میں قانونی ، عدالتی اور جیل کے مسائل کا شکار ہیں، کی مکمل حمایت پر زور دیا اور گزشتہ دو مہینے کے دوران 108 ایرانی قیدیوں کو جارجیا سے ملک میں منتقل کیا گیا اور ہم نے دوسرے ممالک کے متعدد قیدیوں کو ان کے آبائی ملک منتقل کردیا ہے۔
انہوں نے ایران میں افغان قیدیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جبکہ افغانستان کی حکومت نے تین ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کیا ہے اور اس کے قیدیوں کے حوالے کرنے کے لئے کافی جگہ ہے لہذا اسلامی جمہوریہ ایران دو ہزار افغان قیدیوں کو ان کے آبائی ملک میں قیدیوں کی منتقلی کے معاہدے کے تحت حوالے کرنے کے لئے تیار ہے۔
انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم کی جانب سے ایرانی صدر کو 44 قیدیوں کو اسلام آباد منتقل کرنے کی درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایک انسان دوستانہ اقدام کے تحت مختلف صوبوں سے پاکستانی قیدیوں کو زاہدان کی جیل میں منتقل کردیا تاکہ وہ پاکستانی حکام کے حوالے کردیئے جائیں ، جنھوں نے وزارت خارجہ اور وزارت انصاف پاکستان کو اس معاملے کی پیروی اور اس کی عکاسی کے باوجود بدقسمتی سے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی۔ ہمیں امید ہے کہ وہ جلد سے جلد اپنے قیدیوں کے حوالے کردیں گے۔
نائب ایرانی وزیر انصاف نے متحدہ عرب امارات میں ایرانی قیدیوں کی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ، متحدہ عرب امارات کی جیلوں میں ہمارے قیدی قونصلر خدمات اور منصفانہ مقدمے کی سماعت سمیت کم سے کم انسانی حقوق سے محروم ہیں ، اور اس عمل کے تسلسل سے اس حکومت کی قانونی اور بین الاقوامی ذمہ داری دوگنی ہوجاتی ہے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 12 =