گورننگ کونسل کی ایران مخالف قرار داد نے ایک بار پھر امریکہ اور یورپ کی معاندانہ اور ناقابل اعتماد نوعیت کو بے نقاب کردیا: قالیباف

تہران، ارنا – ایرانی اسپیکر نے کہا ہے کہ پچھلے 17 سالوں سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ بین الاقوامی قواعد و ضوابط اور اپنے قومی مفادات کے فریم ورک میں عالمی جوہری ادارے کے ساتھ سب سے فراخدار تعاون رہا ہے مگر اس نے اکثر دشمنی اور زیادہ تاوان کے سوا کچھ حاصل نہیں کیا۔

یہ بات "محمد باقر قالیباف" نے اتوار کے روز ایرانی مجلس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور بد قسمتی سے بعض یورپ ممالک نے ایک بار پھر ایرانی قوم کو اپنی ناقابل اعتماد اور معاندانہ نوعیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
قالیباف نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی عوام نے فعال مزاحمت کا راستہ انتخاب کیا ہے جسے قوم کا فیصلہ کن مطالبہ ہے اور حکام نے اس پر اتفاق کیا ہے ، اور آنے والے مہینوں میں اس کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہیں رہے گا۔
انہوں نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنر کی ایران مخالف قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا نے دیکھا کہ نہ صرف ان تمام منصوبوں کے باوجود جو ایران کیخلاف ہوئے تھے ، کوئی عالمی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ کچھ بڑی طاقتوں اور بہت سارے ممالک نے اس قرارداد کی کھلی مخالفت کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست علاقائی اور عالمی مسائل میں اپنے ناپاک مقاصد کو حاصل نہیں کرسکیں گے۔
ایرانی اسپیکر نے کہا کہ ہم سفارتکاری اور مذاکرات کے مخالف نہیں ہیں مگر یقین رکھتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات بالکل غلطی اور نقصان دہ ہے، یورپی ممالک کے ساتھ مذاکرات کو پورے عدم اعتماد کے ساتھ کرنا چاہئے، عالمی جوہری ادارے کے ساتھ مذاکرات کو غالب طاقتوں سے ان کی آزادی کو یقینی بنانے کے بعد ہونا چاہئے اور دوسرے ممالک کے ساتھ مذاکرات کا منصوبہ اس اشارے کے مطابق بنایا جانا چاہئے کہ وہ حساس مناظر میں ایرانی قوم کے حقوق اور مفادات کو کتنی حمایت کرتے ہیں۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 4 =