ایران کی جہازرانی صنعت کی سرگرمیوں کیخلاف امریکی پابندیوں کی تنقید

تہران، ارنا- ایرانی پورٹس اینڈ شپنگ اتھارٹی کے سربراہ نے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے سکریٹری جنرل سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کی جائز شپنگ سرگرمیوں کیخلاف امریکی دھمکیوں اور غیر قانونی پابندیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں غیر آئینی اور بین الاقوامی کنونشنوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار "محمد راستاد" نے ہفتے کے روز سمندری تنظیموں کے اعلی عہدیداروں سے منعقدہ ایک اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل سے حالیہ گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بین الاقوامی سمندری کنونشنوں اور ضوابط کے تحت قانونی طور پر اپنے قانونی فرائض کی پاسداری کرتے ہوئے ایرانی ملاحوں کو دھمکی دی جارہی ہے۔

راستاد نے مزید کہا کہ امریکہ کیجانب سے اس طرح کے غیر روایتی طرز عمل کا ابھرا ہونا سمندری تحفظ کیلئے براہ راست خطرہ ہے اور ہم، آئی ایم او تنظیم کو ایرانی شپنگ سرگرمیوں کو غیر قانونی خطرات کے معاملے سے متعلق قانونی طور پر جانچ کرنے کیلئے راضی کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

انہوں نے ملک کی جہاز رانی صنعت پر عائد نئی پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئےکہا کہ اس سلسلے میں  ہمیں ایجنسیوں اور سمندری کمپنیوں کے مابین زیادہ سنجیدہ اور قریبی رابطے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس شعبے میں سرگرمیوں کو بہتر بنانے اور پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے کیلئے تمام اندرونی سہولیات اور صلاحیتوں کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

راستاد کا کہنا ہے کہ ملک کی بے پناہ سمندری صلاحیتوں کیخلاف پابندی عائد نہیں کی جاسکتی اور ہم پابندیوں کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور بین الاقوامی برادری میں وسیع قانونی کاروائی کیساتھ، ہم پابندیوں اور یکطرفہ اور غیر قانونی خطرات سے ہونے والے نقصان کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 15 =