کرونا وائرس اور معاشی پابندیوں کے دوران ایرانی علم پر مبنی کمپنیوں کی پیداوار کا فروغ

تہران، ارنا- ایرانی امیرکبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے نائب سربراہ نے کہا ہے کہ ایران مخالف معاشی پابندیوں اور اس کے بعد ایران سمیت پوری دنیا میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے علم پر مبنی کمپنیوں میں مصنوعات کی پیداوار بڑھنے لگی۔

ان خیالات کا اظہار "حسین حسینی تودشکی" نے ہفتے کے روز ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ، علم پر مبنی کمپینوں میں ترقی کا باعث ہوا حتی کہ بعض کمپنیوں میں پیداوار کے حجم میں 30 گنا کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

حسینی کا کہنا ہے کہ نینو فلٹر سے لیس والو فلٹر ماسک کی تیاری میں 30 گنا کا اضافہ، ہوا اور پانی کے اوزون جنریٹر کی پیداوار، 55 منٹس میں کرونا وائرس کو پتہ لگانے والے آلے کی پیداوار، سپرے اور جراثیم کش جھاگ کی پیداواری میں 3 گنا کا اضافہ، انگلی کا استعمال کرتے ہوئے بلڈ آکسیجن کو ماپنے والے آلے کی پیداوار، اوزون ٹیکنالوجی سے سطح کی جراثیم کش مصنوعات کی پیداوار، میڈیکل شیلڈ پروڈکشن، اورکت لیزر تھرمامیٹر اور ورچوئل ایجوکیشن سے متعلق سافٹ ویئر کی تیاری، نفسیاتی خدمات اور گفتگو ویبینار،علم پر مبنی کمپنیوں اور امیرکبیر یونیورسٹی کے سائنس اورٹیکنالوجی ٹاور کی حاصل کردہ کامیابیوں میں شامل ہیں۔

انہوں نے عالمی درجہ بندی میں امیرکبیر یونیورسٹی کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2018ء میں یونیورسٹی کے حوالہ جات کی بین الاقوامی درجہ بندی 44 تھی، جو 2020ء میں 22 تک پہنچ گئی۔

حسینی نے مزید کہا کہ ٹائمز کی درجہ بندی میں یونیورسٹی کی جدت طرازی کے شعبے میں 44 ویں پوزیشن ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 8 =