اب امریکہ کو انسانی حقوق کے بارے میں جوابدہ ٹھہرانے کا وقت آگیا ہے

تہران، ارنا – ایرانی وزارت خارجہ نے اپنی نئی ٹوئٹ میں امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف مظاہرے اور مظاہرین سے نمٹنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب امریکی حکومت کو ملک کے اندر اور ملک سے باہر انسانی حقوق کے لئے جوابدہ ٹھہرانے کا وقت آگیا ہے۔


اس ٹوئٹ میں آیا ہے کہ منظم نسل پرستی ، پولیس کی بربریت اور پرامن احتجاج کے خلاف تشدد سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری امریکی حکومت کو ملک کے اندر اور باہر انسانی حقوق کے لئے جوابدہ ٹھہرانے پر توجہ دی جائے۔

ایران نے کہا کہ  امریکہ میں نسل پرستی کے مقابلے کیلیے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کی حمایت کرتے ہیں۔

سید عباس موسوی نے کہا کہ ہم 17 اور 18 جون کو  امریکی سیہ فام شہری جورج فلویڈ کے قتل اور امریکہ میں نسل پرستی کے مقابلہ کرنے کیلیے انسانی حقوق کونسل کے "فوری اجلاس" کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا خیال ہے کہ اقوام متحدہ کو نسل پرستی سے لڑنے کیلیے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہیے۔

موسوی نے کہا کہ ایران اپنی مذہبی، ثقافتی اور قومی تعلیمات کی بنیاد پر ہمیشہ نسل پرستی کا مقابلہ کرنے کا عملبردار ہے  اور ہم دنیا کے کچھ حصوں خصوصا امریکہ میں منظم نسل پرستی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے خواہاں ہیں۔

موسوی نے مزید کہا کہ گذشتہ چند عشروں میں فلسطینی عوام امتیازی سلوک اور نسل پرستی کا شکار ہیں ، اور آج ہم امریکی معاشرے میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ منظم نسل پرستی اور ناانصافی کا نتیجہ ہے جو امریکی سیاسی نظام کے ستونوں اور ڈھانچے میں موجود ہے۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ، صرف امریکی عوام اور معاشرے نسل پرستی اور ناانصافی کا شکار نہیں ہیں اور بلکہ دوسرے ممالک کے عوام بھی امریکی حکومتوں کے امتیازی سلوک اور ناانصافی کی وجہ سے اپنے حقوق سے محروم ہوگئے ہیں جس میں امریکہ کا براہ راست ذمہ دار ہے۔

ایرانی ترجمان نے کہا کہ نسل پرستی اقوام متحدہ کا قدیم ترین فرائض میں سے ایک ہے  لیکن کئی دہائیوں کی کوششوں کے باوجود آج ڈربن بین الاقوامی اعلامیے کی بیسویں برسی اور افریقہ ڈے کے موقع پر ہم اس طرح کے مظالم  امریکہ میں دیکھ رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نسل پرستی کے خلاف جنگ کو ایک نئے دور میں داخل ہونا چاہئے تاکہ ہم آخر کار وہ دن دیکھ سکیں جب لوگ دنیا میں کہیں بھی نسل پرستی کا شکار نہ ہوں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 8 =