شام کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مضبوط کریں گے: ایرانی ترجمان

تہران - ایرنا -  ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے شام پر امریکی پابندیوں کے ردعمل پر کہا ہے کہ ماضی کی طرح ہم شامی  قوم اور حکومت کے ساتھ اپنے معاشی تعاون جاری رکھیں گے۔

سید عباس موسوی نے کہا کہ ہم شام کے خلاف امریکی پابندیوں کے باوجود گزشتہ کی طرح اس ملک کے ساتھ اپنے اقتصادی تعاون کو فروغ دیں گے۔

انہوں نے شام کے خلاف نام نہاد "سیزر قانون" کے نفاذ کو بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے کر اس کی مذمت کی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایسے حالات میں جو دنیا کرونا کے پھیلنے کا شکار ہے اس طرح کی غیر انسانی پابندیاں شامی عوام کے دکھوں کو مزید بڑھادیں گی۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے جیسا کہ اس سے پہلے بھی ذکر کیا ہے اس طرح کی جابرانہ اور یکطرفہ پابندیوں جو غنڈہ گردی کے ذریعہ عائد کیا گیا ہے، کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور ان پاپندیوں کو شامی عوام کے خلاف معاشی دہشت گردی اور اس ملک کو غیر مستحکم کرنے کیلیے امریکی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ماضی کی طرح بھی  شام کے مستحکم عوام اور حکومت کے ساتھ اپنا معاشی تعاون کو جاری رکھیں گے ، اور ان پابندیوں کے باوجود ہم شام کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو مستحکم کریں گے

قابل ذکر ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے گزشتہ روز اپنی ٹوئٹ میں شامی حکومت کے خلاف پابندیوں خاص طور پر صدر بشار الاسد اور اس کے قریبی دسیوں دیگر افراد کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

امریکی سینیٹ کے ممبران نے سیزر قانون کی منظوری کی جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 دسمبر 2019 اس  معاہدے پر دستخط کیا  اور یہ  معاہدہ جون 2020 میں نافذ کیا جائے گا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 0 =