مشکل حالات پر قابو پانے کیلئے ایران کیساتھ کھڑے رہیں گے: عراقی وزیر اعظم

تہران، ارنا- عراق کے وزیر اعظم نے ایرانی مرکزی بینک کے سربراہ سے ایک ملاقات میں کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی رقوم کی ادائیگی سے متعلق رونما ہونے والے مسائل کو حل کرنے کا حکم دیا ہے اور وہ موجودہ مشکل صورتحال میں ایران کی مدد کریں گے کیونکہ ایران نے مشکل حالات میں عراق کا ساتھ دیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار"مصطفی الکاظمی" نے آج بروز بدھ کو عراق کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی مرکزی بینک کے سربراہ "عبدالناصر ہمتی" سے ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے اس امید کا اظہار کردیا کہ ایران مخالف امریکی پابندیوں کا جلد خاتمہ ہوگا۔

انہوں نے عراق کیجانب سے بجلی اور گیس کی برآمدات سے متعلق ایران کے رقوم کی ادائیگی میں تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے متعلقہ عہدیداروں سے ملاقاتیں کی ہیں اور ان مسائل سے واقف ہیں۔

 انہوں نے متعلقہ عہدیداروں سے ایسے معاملات حل کرنے میں تعاون کرنے پر زوردیا ہے اور تہران میں اپنے دوستوں کو ہمارا پیغام ہے کہ عراق اس سمت میں ایک قدم اٹھا رہا ہے۔

الکاظمی نے کہا کہ ہم ایرانی رقوم کو کھانے پینے اور بنیادی مصنوعات کی صورت میں ادا کرنے سے اتفاق کرتے ہیں اور اس حوالے سے تعاون پر تیار بھی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا اس کے علاوہ عراقی تاجر تعاون کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور میں نے حکم دیا ہے کہ ایران کی ادائیگی سے متعلقہ مسائل کا حل کیا جائے۔

عراقی وزیر اعظم نے اس امید کا اظہار کر دیا کہ ایران کیخلاف امریکی ظالمانہ پابندیوں کا جلد ہی ختم ہوجائے گا اور ہم موجودہ مشکل صورتحال میں ایران کی مدد کریں گے کیونکہ ایران مشکل حالات میں عراق کا ساتھ دیا ہے۔

انہوں نے ایران کیجانب سے عراق کو بجلی کی برآمدات پر شکریہ ادا کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا۔

عراقی وزیراعظم نے ایران کا سارا قرضہ اتارنے کی ضرورت پر زور دیا۔

دراین اثنا ایرانی مرکزی بینک کے سربراہ نے بھی دونوں ملکوں کے درمیان تعمیری تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی عراقی مرکزی بینک کے سربراہ اور وزیر خزانہ سے اچھی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں پچھلے سال کے معاہدے پر عمل درآمد کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن آج ہم ایک مشترکہ نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہم عراق میں ایران کے وسائل کو بنیادی سامان کی فراہمی کیلئے استعمال کریں۔

ہمتی نے کہا کہ عراقی دوستوں کیساتھ بات چیت میں ہم نے اس بات پر زور دیا کہ ہم اس مفاہمت کی یادداشت میں عراق کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے ہیں لہذا ہم نے دونوں ممالک کے مابین مشترکہ یادداشت کے فریم ورک مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے نجی اور سرکاری شعبوں میں باہمی تجارتی حجم کا حوالہ دیتے ہوئے اس کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 0 =