جوہری معاہدے میں توازن کی بحالی کی ضررورت ہے: ایرانی مندوب

لندن، ارنا- عالمی جوہری توانائی ادارے کے بورڈ آف گورنز کے اجلاس میں شریک ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کو صرف ماضی کی ایک یاد میں تبدیل کرنے کی روک تھام کیلئے معاہدے کے تمام فریقوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کے مابین کھوئے ہوئے توازن کی بحالی کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار "کاظم غریب آبادی" نے ایران جوہری سرگرمیوں سے متعلق عالمی ایٹمی ایجنسی کی رپورٹ کے حوالے سے منعقدہ ویڈیو کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس حقیقت کے باوجود کہ جوہری معاہدے کو بقا کیلئے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے لیکن عالمی جوہری ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی رپورٹ ایران اور آئی اے ای اے کے مابین تعاون کی سطح کا ایک اچھا ثبوت ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 16 جنوری 2016 سے اب تک آئی اے ای اے اپنی جوہری ذمہ داریوں سے متعلق ایران کی کارکردگی کا جائزہ لے رہا ہے اور اس کی تصدیق کر رہا ہے۔

غریب آبادی کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی جوہری ادارہ، جوہری معاہدے سے متعلق کیے گیے وعدوں میں کمی کے حوالے سے ایران کی کاروائیوں کی نگرانی اور تصدیق کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں کرونا کے پھیلاؤ کے وقت آئی اے ای اے کیساتھ ایران کے تعاون کی سطح کو بھی "مثالی" قرار دیا گیا ہے۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ جوہری معاہدے کے نفاذ کے بارے میں یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ نہ صرف کوئی مثبت مثبت پیشرفت ہوئی ہے بلکہ صورتحال اور بھی خراب ہوچکی ہے۔

غریب آبادی نے کہا کہ 2019 سیفٹی ایگزیکیوشن کی رپورٹ کے مطابق، ایڈیشنل پروٹوکول کی رضاکارانہ اور عارضی طور پر عمل درآمد کے نتیجے میں عالمی ایٹمی ایجنسی نے گذشتہ سال کے دوران ایران کو 33 اضافی رسائی حاصل کی ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 1 =