ایران جوہری معاہدے سے متعلق سلامتی کونسل سے غلط فائدہ اٹھانے کا مقابلہ کرتے ہیں: روس

ماسکو، ارنا- روسی وزیر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کا ملک ایران جوہری معاہدے سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے غلط فائدہ اٹھانے کی کوششوں کا مقابلہ کرے گا۔

ان خیالات کا اظہار "سرگئی لاوروف" نے منگل کے روز روس کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" سے ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک ایران کیخلاف اقوم متحدہ کی سلامتی کونسل سے غلط فائدہ اٹھانے کی سختی سے مقابلہ کرے گا۔

لاوروف نے کہا کہ ہم بے شک اسی مسئلے کو تمام بین الاقوامی کثیر الجہتی فارمیٹ میں اٹھائیں گے۔

اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اور کچھ مغربی ممالک بھی عالمی جوہری توانائی ادارے کے بورڈ آف گورنرز اور اقوام متحدہ کی قومی سلامتی کونسل میں بین الاقوامی اصولوں کیخلاف ورزی کرنے کے درپے ہیں۔

انہوں نے بین الاقوامی معاہدوں سے امریکی علیحدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے حالیہ دنوں  میں عالمی ادارہ صحت سے تعلقات منقطع کردیا ہے؛ ایک ایسا خصوصی ادارہ جو تمام ممالک اس سے تعلقات رکھتے ہیں۔

ظریف نے کہا کہ لیکن امریکہ نے اپنی کمروزیوں کو چھپانے کیلئے عالمی ادارہ صحت سے تعلقات کو سیاسی رنگ دیا؛ ہمیں امریکہ کی اس پالیسی سے مقابلہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے ایران پر اسلحے کی پابندی کی توسیع کیلئے امریکی کوششوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جوہری معاہدے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 کا ایک اہم جز ہے جس کو امریکی عہدیداروں نے بھی اسی وقت تسلیم کیا لیکن اب حکومت بدلنے سے وہ اپنے وعدوں کیخلاف ورزی کر رہے ہیں۔

ظریف نے کہا کہ ایران، چین، روس کا موقف اسی حوالے سے ایک دوسرے جیسا ہے؛ یورپی ممالک بھی تقریبا ساتھ دیتے ہیں لیکن وہ امریکہ کے سامنے آزاد پالیسی اختیار کرنے میں بے بس ہیں۔

انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین معاشی تعاون جاری ہے اور ایران میں روسی ٹھیکیداروں کی شراکت سے مشترکہ معاشی منصوبے عمل میں آ رہے ہیں۔

ظریف نے علاقائی شعبوں میں ایران اور روس کے تعاون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک شام سے متعلق ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں اور اس حوالے سے آستانہ امن عمل کے فریم ورک کے اندر اجلاس کی جلد انعقاد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے یمن، افغانستان جیسے مسائل سے متعلق بھی تعاون اور مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 3 =