ایرانی محققین کا مضمون نینو ٹیکنالوجی کے سرفہرست مضامین میں شامل ہوگیا

تہران، ارنا- نیچر گروپ کے جرائد میں چھپے گئے ایرانی "معتمد" ریسرچ انسٹی ٹیوٹ برائے کیسنر کے محققین کا مضمون، نینو ٹیکنالوجی کے سرفہرست مضامین میں شامل ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق، ایرانی کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ "معتمد" کے محققین نے نینو ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کے ذریعے ایک نئی تشخیصی طریقے کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوگئے اور پھر اور اس سے متعلق اپنے لکھے گئے مضمون کو نیچر گروپ کے ایک جریدے میں شائع کیا جو ابھی نینو ٹیکنالوجی کے سرفہرست مضامین میں شامل ہوگیا ہے۔

معتمد انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ "کیوان مجید زادہ" نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نینوٹیکنالوجی نے محققین کیلئے بیماریوں کی جلدی اور تیزی سے تشخیص کی راہ میں نئے باب کھل گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مقالے میں گرافین پر مبنی نانوکمپوزائٹ / چاندی / پولیانایلین نینو پارٹیکلز کے استعمال سے کینسر سمیت امراض کی تشخیص کیلئے نئی تکنیک کو بہتر بنانے کے طریقے کو دیکھا گیا ہے۔

مجید زادہ کا کہنا ہے کہ نئی تیار کی گئی نانوکمپوزائٹ تشخیصی کاموں کو بہت بہتر بنانے اور حساسیت، درستگی اور ردعمل کی رفتار کو بڑھانے کے قابل ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 3 =