امریکہ میں انسانی حقوق کی پامالی جڑ پکڑلی ہے

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر انٹلیجنس نے کہا ہے کہ امریکہ نے نسلی امتیاز، دہشت گردی اور خودمختاری کے شعبوں میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کی ہے اور امریکہ میں انسانی حقوق کی یہ خلاف ورزی منظم یافتہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار علامہ "سید محمود علوی" نے پیر کے روز تہران میں "امریکی انسانی حقوق کا مطالعہ اور انکشاف" کے ہفتے کے موقع پر منعقدہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دشمن تعلقات کی بات کرتے ہیں لیکن تسلط کے خواہاں ہیں؛ وہ معاشی تعلقات کی بات کرتے ہیں لیکن وسائل کو لوٹنے اور انسانی حقوق کی پامالی کی کوشش کرتے ہیں اور ان کا برتاؤ ان نعرے کے منافی ہے۔

علوی نے کہا کہ امریکی حکومت نے ٹرمپ کے صدرات کے موقع پر بہت سارے باہمی اور کثیر الجہتی معاہدوں جیسے ایران جوہری معاہدے، پیریس ماحولیاتی معاہدے و۔۔۔ سے علیحدہ ہوگئے جس سے ظاہر ہوتی ہے کہ وہ دوسرے قوموں اور حکومتوں کی کوئی عزت نہیں کرتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل نہ کرنے کیلئے معاہدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ وہ طاقتور ہے۔

علوی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے سلسلے میں ہمارے دو سامعین ہیں ان میں سے ایک خود امریکہ اور اس کی اتحادی صیہونی ریاست ہے اور دوسرا دنیا کے عوام ہے؛ امریکہ اور اس کی اتحادی ناجائزصیہونی ریاست نے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ معقول نہیں ہیں بلکہ محض بدمعاش ہیں لیکن ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ہمیں ان ہی دلیل سے بات کرنی ہوگی۔

 انہوں نے کہا کہ امریکہ نسلی امیتاز، دہشتگردی اور دوسرے ممالک کی خودمختاری کے شعبوں میں انسانی حقوق کا کوئی احترام نہیں کرتا ہے حالانکہ وہ اپنے آپ کو انسانی حقوق کے سب سے بڑے عملدار سمجھتا ہے لیکن ان کا انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق بہت سیاہ کارنامہ ہے اور وہ عملی طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے اور در اصل یہ امریکہ میں منظم یافتہ اقدام ہے جو ابھی معمول بھی ہوگیا ہے۔

علوی نے کہا کہ امریکہ کے ہاتھوں شہید جنرل سلمیانی کے قتل بھی عراق کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کیخلاف ورزی تھی؛ جیسا کہ انہوں نے افغانستان اور دیگر ملکوں میں ان جیسے جرائم کیے۔

ایرانی وزیر انٹلیجنس نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت بغیر دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں اور نہ صرف دہشتگردوں کی حمایت کرتے ہیں بلکہ خود بھی دہشتگردانہ اقدامات کرتے ہیں؛ نہ صرف وہ بلکہ اس کے آلہ کار صہیونی ریاست بھی دہشتگردانہ اقدامات کرتی ہے۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران میں امریکی انسانی حقوق کا مطالعہ اور انکشاف کے ہفتے کا 26 جون سے 2 جولائی تک انعقاد کیا جائے گا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 0 =